الفصل بین القضیتین
الرسالہ، نومبر ۱۹۹۵، صفحہ ۲۰
اگر اس مقدس مقام کی زیارت کی شرط یہ ہو کہ جو شخص یا گروہ یروشلم میں جائے اس کی قوم کا سیاسی قبضہ بھی وہاں قائم ہو تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ یہ شہر عملی طور پر عبادت کا مقام نہ رہے گا بلکہ جنگ کا میدان بن جائے گا۔ کیوں کہ کسی مقام پر سیاسی اقتدار بیک وقت کسی ایک مذہبی گروہ کا ہی ہو سکتا ہے ۔ پھر بقیہ دو مذہبی گروہ جن کا سیاسی قبضہ وہاں نہ ہوگا وہ قابض گروہ کے خلاف جنگ چھیڑ دیں گے۔ اس طرح یہ مقام ابدی طور پر جنگ و جدال کا مرکز بنارہے گا۔ اس بنا پر کسی کے ، حتی کہ قابض گروہ کے لئے بھی یہ موقع نہ ہوگا کہ وہ پر سکون طور پر وہاں اپنا عبادتی عمل انجام دے سکے۔ یروشلم کے معنیٰ ہی امن کا شہر (city of peace) کے ہیں۔ پھر کیونکر ایسا ہو کہ یروشلم کا امن ہر حال میں برقرار رہے تاکہ ہر فریق ہمیشہ اور یکساں طور پر اس کی زیارت کر سکے۔ جہاں تک اسلام کا سوال ہے، قرآن وحدیث میں یروشلم کے دو بالواسطہ حوالے ملتے ہیں۔ قرآن کی سورہ الاسراءء میں معراج رسول کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ پاک ہے وہ جو لے گیا ایک رات اپنے بندے کو مسجد حرام سے دور کی اس مسجد تک جس کے ماحول کو ہم نے بابرکت بنایا ہے، تاکہ ہم اس کو اپنی کچھ نشانیاں دکھائیں (الاسراء۱) روایات بتاتی ہیں کہ ہجرت سے پہلے غالباً ۲۲ ہج کے آغاز میں پیغمبر اسلام کو ایک غیر معمولی سفر کا تجربہ ہوا جس کو اسلام کی تاریخ میں اسرا اور معراج کہا جاتا ہے۔ اس سفر میں خدا کے غیبی اہتمام کے تحت آپ مکہ سے یروشلم پہنچے۔ یہاں آپ نے مسجد اقصی میں باجماعت نماز ادا کی۔ واضح ہو کہ مکہ اور یروشلم کے درمیان ۸۰۰ میل کا فاصلہ ہے۔
یروشلم کا دوسرا بالواسطہ حوالہ وہ ہے جو حدیث میں آیا ہے۔ البخاری، مسلم، ابوداؤد، النسائی، الترمذی، الموطا وغیرہ میں الفاظ کے معمولی فرق کے ساتھ یہ روایت آئی ہے کہ صرف تین مسجدیں ہیں جن کے لئے سفر کے لئے جانا جائز ہے۔ مسجد حرام، مسجد نبوی اور مسجد اقصی۔ آخری مسجد کے لئے بعض روایات میں مسجد ایلیا کا لفظ ہے یعنی فلسطین کی مسجد۔ دوسری روایات میں بتایا گیا ہے کہ ان تین مسجدوں میں عبادت کرنے کا ثواب دنیا کی دوسری تمام مسجدوں سے بہت زیادہ ہے۔
ایک طرف یروشلم کی مسجد اقصی کی یہ فضیلت ہے کہ اس میں عبادت کرنا مکہ اور مدینہ کی مسجد کے بعد
‹ Previous page Next page › Contents of November 1995 All issues