Al-Risala · November 1995 · page 21

الفصل بین القضیتین

الرسالہ، نومبر ۱۹۹۵، صفحہ ۲۱

سب سے زیادہ افضل ہے۔ دوسری طرف قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ زمین کے کسی خطہ پر سیاسی اقتدار کسی ایک ہی قوم کا قائم نہیں رہ سکتا۔ وہ ہر زمانہ میں بدلتارہے گا۔ کبھی ایک قوم کے پاس اور کبھی دوسری قوم کے پاس۔ اس بات کو قرآن (آل عمران ۱۴۰) میں ان الفاظ میں کہا گیا ہے کہ ۔ اور ہم ان ایام کو لوگوں کے درمیان بدلتے رہتے ہیں (وتلک الایام ند اولہا بین الناس)

اب سوال یہ ہے کہ جب عام قانون فطرت کے تحت یہ وشلم کا سیاسی اقتدار ابدی طور پرکسی ایک قوم کے پاس نہیں رہ سکتا تو اہل اسلام کے لئے مسجد اقصی میں عبادت کرنے کی صورت کیا ہو۔ ہر مسلمان فطری طور پر یہ خواہش رکھتا ہے کہ وہ اس مسجد میں داخل ہو کر سجدہ کرے جہاں پیغمبر اسلام نے اور دوسرے تمام نبیوں نے سجدہ کیا۔ اب اگر اس عبادت کو سیاسی اقتدار سے جوڑا جائے اور یہ کہا جائے کوئی مسلمان صرف اس وقت مسجد اقصی میں عبادت کرنے کی سعادت حاصل کر سکتا ہے جب کہ اس علاقہ پر مسلمانوں کی حکومت بھی قائم ہو تو ملینوں مسلمان ، سابق سعودی حکمراں فیصل بن عبد العزیز کی طرح اپنے سینہ میں یہ تمنا لئے ہوئے مرجائیں گے اور اس قیمتی احساس کا تجربہ نہ کرسکیں گے کہ آج میں اس مقام پر خدائے برتر کے لئے سجدہ کر رہا ہوں جہاں پیغمبر اسلام نے تمام نبیوں کے ساتھ سجدہ توحید ادا کیا۔

اس مسئلہ کا حل کیا ہو۔ اس کا حل خود پیغمبر اسلام کی سنت میں موجود ہے۔ اس سنت کا خلاصہ یہ ہے کہ معاملہ کے سیاسی پہلو کو الگ رکھتے ہوئے اس کے عبادتی پہلو کو لے لینا مسئلہ کو نظر انداز کر کے کے امکان کو استعمال کرنا۔ اس سنت کو ہم نے الفصل بین القضیتین کا نام دیا ہے۔ رسول اللہ کی یہ سنت حسب ذیل واقعات سے معلوم ہوتی ہے۔

۱۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم جولائی ۶۲۲ میں مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ پہنچے۔ یہاں آپ تقریبا ڈیڑھ سال (۶۲۳ کے آخر تک) بیت المقدس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھتے رہے۔ اور آپ کے صحابہ بھی اسی طرح عمل کرتے رہے۔ ۶۲۴ کے آغاز میں قرآن (البقرہ ۱۴۴) میں یہ حکم اترا کہ اب تم لوگ کعبہ کو اپنا قبلہ عبادت بنالو اور اسی طرف رخ کر کے تمام لوگ پنج وقتہ نمازیں ادا کرو۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 1995 All issues

Printed page