الفصل بین القضیتین
الرسالہ، نومبر ۱۹۹۵، صفحہ ۲۲
جب قبلہ کی تبدیلی کا یہ حکم اتراتو اسی کے ساتھ قرآن میں یہ حکم بھی اتارا گیا کہ اے مسلمانو، تم لوگ نماز اور صبر سے مدد لو (البقرہ ۱۵۳) صبر کا ایک عام مفہوم ہے۔ مگر اس موقع پر صبر کا ایک خاص مفہوم بھی تھا۔ وہ یہ کہ جس وقت کعبہ کو قبلہ عبادت بنانے کا حکم اترا اس وقت کعبہ میں ۳۶۰ بت رکھے ہوئے تھے، عملاً کعبہ اس وقت شرک کا مرکز بنا ہوا تھا۔ اس طرح اہل ایمان کو ایک تنگدر ہو سکتا تھا کہ ہم کیوں کہ ایک موحدانہ عبادت کا قبلہ ایک ایسی عمارت کو بنائیں جو عملاً شرک اور بت پرستی کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ حکم دیا گیا کہ اس پہلو کو صبر کے خانہ میں ڈال دو اور حکم کی تعمیل کرو۔
تاریخ کے مطابق ، یہ حالت پورے چوسال یعنی فتح مکہ تک قائم رہی۔ تحویل قبلہ کے بعد سے چوسال تک مسلمان اس حال میں کعبہ کی طرف رخ کر کے نماز ادا کرتے رہے کہ وہاں سیکڑوں بت موجود تھے اور وہ پوری طرح شرک کا گڑھ بنا ہوا تھا۔ یہ صورتحال مکہ کی فتح کے بعد ختم ہوئی جب کہ بتوں کو کعبہ سے نکال دیا گیا۔
اس سے اسلام کا ایک اہم اصول معلوم ہوتا ہے۔ اس اصول کو الفصل بین القضيتين یا عدم الخلط بين الشيئين کہا جا سکتا ہے۔ اس اصول کے تحت کعبہ اور اصنام کو ایک دوسرے سے الگ کر دیا گیا۔ اصنام کی موجودگی پر صبر کرتے ہوئے کعبہ کو قبلہ عبادت بنا لیا گیا۔ ۲۔ اس سلسلہ میں دوسرا نمونہ اسراء اور معراج کے واقعہ میں ملتا ہے۔ پیغمبر اسلام کا سفر معراج ہجرت سے پہلے غالباً ۶۲۲ء میں ہوا۔ اس وقت یروشلم پر مسلمانوں کی حکومت نہیں تھی۔ بلکہ وہاں مشرک ایرانیوں کا قبضہ تھا۔ تاریخ بتاتی ہے کہ ۶۱۴ء میں ایرانی حکمران خسرو پرویز نے یروشلم پر حملہ کیا اور اس کو رومیوں سے چھین لیا جو ۶۲۳ ق م سے اس پر قابض چلے آ رہے تھے۔ ایرانی سلطنت کا سیاسی قبضہ ۶۲۹ء میں ختم ہوا جب کہ رومی حکمراں (Heraclius) نے ایرانیوں کو شکست دے کر دوبارہ یروشلم پر اپنا قبضہ بحال کیا۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت سے قبل جس وقت اپنے سفر معراج میں یروشلم میں داخل ہوئے اور مسجد اقصی میں نماز ادا کی اس وقت یروشلم پر ایک غیر مسلم بادشاہ خسرو پرویز کی حکومت تھی۔ اس سے یہ اہم سنت رسول معلوم ہوتی ہے کہ عبادت اور سیاست
‹ Previous page Next page › Contents of November 1995 All issues