تاریخی پس منظر
الرسالہ، نومبر ۱۹۹۵، صفحہ ۲۳
ہوئے اور وہاں عمرہ کیا اور کعبہ کا طواف کیا۔ ایسا صرف اس لئے ممکن ہوا کہ آپ نے عبادتی معاملہ کو سیاسی معاملہ کے ساتھ مختلط نہیں کیا۔ اگر آپ اس شرط کو ضروری سمجھتے کہ عمرہ کی عبادت اسی وقت کی جاسکتی ہے جب کہ ہم پر مسلمانوں کا سیاسی اقتدار قائم ہو چکا ہو تو آپ کبھی اپنے اصحاب کے ساتھ وہاں عمرہ کے لئے داخل نہ ہوتے۔
اس سنت رسول (الفصل بین القضیتین) کی روشنی میں یروشلم کے موجودہ مسئلہ کا حل یہ ہے کہ یروشلم پر سیاسی قبضہ کے مسئلہ کو مسجد اقصی میں عبادت کرنے کے سوال سے الگ کر دیا جائے ۔ مسلمان خواہ فلسطین کے ہوں یا بیرونی ملکوں کے، وہ آزادانہ طور پر یہاں آکر مسجد اقصی میں اللہ کے لئے عبادت کریں۔ عبادت کو سیاسی اقتدار کے ساتھ مشروط اور مخلوط نہ کیا جائے۔
خلاصہ یہ ہے کہ یروشلم کے مسئلہ کا واحد عملی حل یہ ہے کہ اس معاملہ میں الفصل بین القضیتین کے مذکورہ بالا اصول کو اختیار کر لیا جائے ۔ یعنی کسی نزاعی معاملہ کے دو پہلوؤں کو ایک دوسرے سے الگ رکھنا۔ یہی یروشلم کے مسئلہ کا، (بالخصوص موجودہ حالات میں) واحد قابل عمل حل ہے۔ ہمیں چاہیے کہ یروشلم کے سیاسی پہلو کو اس کے مذہبی پہلو سے الگ رکھیں۔ تاکہ لوگوں کے لیے ان کی عبادت کی راہ میں کوئی نظریاتی رکاوٹ حائل نہ رہے۔ اور وہ ہر حال میں یروشلم جاکر آزادانہ طور پر اپنے عبادتی جذبہ کی تسکین حاصل کر سکیں۔
تاریخی پس منظر
پر وشلم پر مسلمانوں کا قبضہ پہلی بار ۶۳۸ء میں ہوا۔ اس کے بعد ۱۰۹۹ء میں دوبارہ وہ صیہیوں کے قبضہ میں چلا گیا۔ ۸۸ سال بعد، ۱۱۸۷ء میں صلاح الدین ایوبی نے دوبارہ یروشلم پر مسلم قبضہ کو بحال کیا۔
اس طرح گیارہویں صدی اور بارھویں صدی کے درمیان تقریبا ۹۰ سال تک کا زمانہ
‹ Previous page Next page › Contents of November 1995 All issues