Al-Risala · January 1995 · page 7

یہ تضاد

الرسالہ، جنوری ۱۹۹۵، صفحہ ۷

یہ تضاد

قدیم زمانہ میں عرب کا لفظ خشک صحرا کے ہم معنی تھا۔ مگر پیڑو ڈالر کے ظہور نے عرب کے بارہ میں پرانے تصور کا خاتمہ کر دیا ہے۔ اب کہا جاتا ہے کہ : جاؤ عرب کماؤ کھرب۔ اس فرق نے ہر اعتبار سے عرب کے بارہ میں لوگوں کی سوچ کو بدل دیا ہے۔

عرب ملکوں میں دولت ہے مگر وہاں ہندوستان جیسی جمہوریت نہیں۔ چنانچہ جو لوگ ان ملکوں میں کمانے کے لیے جاتے ہیں، وہ اختلافی امور میں بے حد محتاط رہتے ہیں۔ حتی کہ وہ اپنے کمرہ کے اندر بھی سیاسی اور اختلافی بات کرنے سے بچتے ہیں۔

۱۱ فروری ۱۹۹۰ کو میرے پاس ایک مسلم نوجوان آئے۔ وہ ڈاکٹر ہیں۔ انھوں نے ہندوستان کی ایک یونیورسٹی سے ایم بی بی ایس کا کورس کیا ہے۔ ان کو ایک عرب ملک میں ملازمت مل گئی ہے۔ گفتگو کے دوران انھوں نے بتایا کہ میرے ماموں کو جب معلوم ہوا کہ میں ایک عرب ملک میں جا رہا ہوں تو انھوں نے مجھے بلا کر نصیحت کی۔ انھوں نے کہا کہ وہاں تم بس اپنے کام سے کام رکھنا۔ وہاں کے نظام پر کبھی کوئی تنقید نہ کرنا۔ کسی سے شکایت کی بات ہو تو اس کو نظر انداز کر دینا۔ کسی بھی معاملہ میں کسی سے نہ الجھنا۔ اگر تم میری نصیحت پر قائم رہے تو تم کامیاب رہو گے۔

مذکورہ "ماموں صاحب ، کو میں جانتا ہوں۔ ایک روز وہ میرے یہاں آئے اور کہا کہ میں آپ کا الرسالہ پڑھتا ہوں۔ مگر وہ مجھے پسند نہیں۔ کیوں کہ آپ مسلمانوں کو بزدلی سکھاتے ہیں۔ مسلمان کی شان مجاہد بننا ہے۔ آپ کو چاہیے کہ مسلمانوں کے اندر جہاد کی اسپرٹ پیدا کریں۔ میں نے ڈاکٹر صاحب سے کہا کہ آپ کے ماموں صاحب عام مسلمانوں کو تو بہادری کا سبق دینا چاہتے ہیں اور آپ کو سکھاتے ہیں کہ بزدل بن کر رہنا۔ یہی موجودہ مسلمانوں کا حال ہے۔ جہاں ان کا ذاتی مفاد خطرہ میں ہو وہاں ہر آدمی ”بزدل“ بنا ہوا ہے۔ اور جہاں دوسروں کا معاملہ ہو وہاں ہر آدمی بہادری کے فضائل پر الفاظ کے دریا بہا رہا ہے۔ کیسے عجیب ہیں یہ مسلمان جو اپنے فائدے کے معاملہ میں ہوشیار ہیں اور دوسروں کے معاملہ میں بیوقوف۔ کیا انھیں اپنے پیغمبر کی یہ تعلیم معلوم نہیں کہ تم اپنے دوسرے بھائیوں کے لیے بھی وہی پسند کرو جو تم خود اپنے لیے پسند کرتے ہو۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 1995 All issues

Printed page