'I' am the only one who matters.
الرسالہ، نومبر ۱۹۹۵، صفحہ ۳۷
کا اصل اقدا می عمل دعوت ہے۔
وگن (Wigan) برطانیہ کا ایک شہر ہے جو گریٹر مانچسٹر میں شامل ہے۔ وہ دریائے ڈگلس کے کنارے واقع ہے۔ وہ رومن عہد میں ۱۱۰۰ میں بنایا گیا۔ اٹھارویں صدی میں صنعتی دور کا آغاز ہوا تو اس کے بعد وگن کو کافی ترقی ہوئی۔ یہاں کوئلہ اور کپاس اور لوہے کی صنعتیں قائم ہوئیں۔ مغرب کا فیملی اسٹرکچر ہندوستان کے فیملی اسٹرکچر سے بنیادی طور پر مختلف ہے۔ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ ہندوستان کا بچہ ”ہم“ کی اصطلاح میں سوچتا ہے ، جب کہ مغرب کا بچہ ”میں“ کو جانتا ہے۔ مغرب کے بچہ کی نفسیات یہ ہوتی ہے کہ میں ہی سب کچھ ہوں:
'I' am the only one who matters.
مغرب کا پورا ماحول اسی آزادانہ انفرادیت کا مبلغ ہے۔ آزادی یا انفرادیت بذات خود غلط نہیں، مگر ہر چیز اپنی حد سے تجاوز کرنے کے بعد غلط ہو جاتی ہے۔ اور مغرب اس معاملہ میں آخری حد سے بھی زیادہ تجاوز کر چکا ہے۔ بظاہر حالات مستقبل قریب میں اس کی واپسی کا امکان نہیں۔ مغربی ملکوں میں جو مسلمان آباد ہیں ان کی تعداد تقریباً ۱۰ ملین ہے۔ ان میں سے نصف تعداد یورپ میں ہے اور نصف تعداد شمالی امریکہ میں۔ میں نے ایک صاحب سے کہا کہ آپ کے اکابر نے اس نام پر قربانی دی کہ مغرب ہمارا دشمن ہے۔ اس کو مسلم ملکوں سے نکالنا ضروری ہے۔ مگر بے شمار قربانی کے بعد جب ان مغربی قوموں کا سیاسی اخراج ہو گیا تو ان اکابر کی اگلی نسل خود ہی دوڑ کر اہل مغرب کے ملکوں میں جا بسی۔ اب یہ بتائیے کہ آپ کے اکابر غلط تھے یا آپ لوگ غلطی کر رہے ہیں۔ وہ صاحب دونوں ہی کو صحیح ثابت کرتے رہے۔ یہی دو طرفہ سوچ ہے جو صحیح تفکیر میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ اعتراف صحیح تفکیر کی لازمی شرط ہے۔ جس آدمی کے اندر اعتراف کا حوصلہ نہیں، وہ تفکیر صحیح سے بھی یقینی طور پر محروم رہے گا۔ ایک صاحب نے کہا کہ مغرب والوں کا نقطہ نظر یہ ہے کہ انہیں ہر چیز میں اول (first in everything) بنے رہنا ہے۔ اس اسپرٹ کو زندہ رکھنے کے لئے انہیں طاقت ور حریف (strong opponent) کی ضرورت ہے۔ پہلے کمیونزم یہ کام کر رہا تھا۔ اب کمیونزم کے خاتمہ کے بعد انھوں نے اسلام کو اپنا حریف بنا لیا ہے۔ اب وہ اسلام کا فرضی یا حقیقی خطرہ بنا کر مذکورہ اسپرٹ
‹ Previous page Next page › Contents of November 1995 All issues