'I' am the only one who matters.
الرسالہ، نومبر ۱۹۹۵، صفحہ ۳۸
کو اپنے لوگوں میں باقی رکھنا چاہتے ہیں۔
میں نے کہا کہ اگر بالفرض ایسا ہو تو یہ وہی ہے جو موجودہ زمانہ کے مسلمان ان سے بھی زیادہ بڑے پیمانے پر اختیار کئے ہوئے ہیں۔ پاکستان والے ہندوستان کے خطرہ پر اپنے قومی جذبہ کو زندہ کئے ہوئے ہیں۔ عرب دنیا صہیونی خطرہ کو اپنی حیاتِ قومی کی بنیاد بنائے ہوئے ہے۔ ہندوستان کے مسلمان ہند و خطرہ کے نام پر جی رہے ہیں۔ اسی منفی ذہن کا یہ نتیجہ ہے کہ سلمان رشدی یا بوسنیا کا مسئلہ ان کو متحد کر سکتا ہے مگر کوئی مثبت چیز انہیں متحد نہیں کرتی: Salmanı Rushdie or Bosnia might bring them together, but not something positive. ۲۴ ستمبر کو لندن میں عربوں کی ایک مجلس میں میں نے کہا کہ موجودہ زمانہ کی اسلامی تحریکوں کو عرب ممالک بہت بڑے پیمانے پر مالی مدد دے رہے ہیں۔ حالاں کہ ان کے انقلابی نظریات ملوکیت کے سراسر خلاف ہیں۔ پھر یہ ملک کیوں ایسا کرتے ہیں۔ ایک عرب نوجوان نے کہا: لماذا البلاد العربية تدعم هذه الحركات۔ لان البلاد العربية تريد ان تحتوي هذه الحركات لتتجنب خطر هذه الحركات۔
میں نے کہا: گویا کہ یہاں عرب ملکوں اور ان تحریکوں کے درمیان ایک خاموش انڈر سٹینڈنگ ہے تم ہم کو مال دیتے رہو، ہم تم سے ٹکراؤ نہیں کریں گے۔ مغربی یورپ میں نسلی امتیاز کی برائی پہلے سے موجود ہے۔ اب وہ مزید شدت کے ساتھ زندہ ہو رہی ہے۔ خاص طور پر جرمنی، فرانس اور برطانیہ میں اس کی لہر زیادہ تیز ہے۔ نو آبادیاتی دور میں ان ملکوں میں بڑی تعداد میں ایشیائی اور افریقی باشندے بطورِ مزدور لے جائے گئے تھے ۔ وہ لوگ وہیں آباد ہو گئے اور اب وہ وہاں کے شہری بن چکے ہیں۔ گرنے نسل پرستوں کا کہنا ہے کہ وہ ہمارے مہمان کارکن (guest workers) تھے نہ کہ ہمارے ملک کے باقاعدہ شہری۔ اس طرح جو نسلی پالیسی (racist policy) ابھر رہی ہے، اس سے بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ دنیا میں ایک نئی سماجی تفریق (social divide) وجود میں آنے والی ہے جو وھائٹ اور غیر وھائٹ کی تقسیم پر مبنی ہو گی۔ اس میں غالباً صرف جاپانیوں کو آنریری وھائٹ (honorary whites) کے طور پر
‹ Previous page Next page › Contents of November 1995 All issues