Al-Risala · November 1995 · page 39

Own this house from £ per week.

الرسالہ، نومبر ۱۹۹۵، صفحہ ۳۹

سلیم کیا جائے گا۔ تاہم یورپ کے سنجیدہ لوگ اس کو خود یورپ کے لئے ایک خطرہ سمجھتے ہیں۔ ایک بوڑھے پروفیسر نے کہا :

If the Europe of the future deals with the rest of the world on the basis of race, it would make itself ineligible for world leadership. یعنی اگر مستقبل کا یورپ بقیہ دنیا سے نسل کی بنیاد پر معاملہ کرتا ہے تو وہ اپنے آپ کو عالمی قیادت کے لئے نااہل بنالے گا۔ ایک اور بوڑھے یورپین نے کہا کہ یہ چیز یورپ کے لئے اس کے عالمی کردار میں رکاوٹ بن سکتی ہے اور امریکہ دوبارہ آزادی اور ترقی کا واحد علم بردار بن کر ظاہر ہو سکتا ہے :

It may deprive Europe of its world role. And the United States might again emerge as the real defender of liberty and progress. یہاں تجارتی مقاصد کے لئے نئے طریقے اختیار کئے جاتے ہیں۔ میں وگن میں اپنی قیام گاہ کی بیرونی کھڑکی کے پاس کھڑا تھا۔ سامنے کی سڑک پر مسلسل دونوں طرف کاریں دوڑتی ہوئی نظر آ رہی تھیں ۔ اس درمیان سڑک کے کنارے لگے ہوئے ایک بورڈ پر نظر پڑی ، اس پر لکھا ہوا تھا - ۶۷ پونڈ فی ہفتہ کے ذریعہ اس گھر کو اپنا لو :

Own this house from £ per week.

انڈیا میں اس طرح کا بورڈ میں نے نہیں دیکھا۔ تاہم اگر یہاں ایسا بورڈ لگایا جائے تو شاید اس پر لکھا ہوا ہوگا کہ اس گھر کا کرایہ ۷۶ پاؤنڈ فی ہفتہ ہے۔ مگر یورپ کے لوگوں کی نفسیات اس اسلوب سے مطابقت نہیں رکھتی ۔ مذکورہ اشتہار اسی کی ایک مثال ہے۔

۲۴ ستمبر کو جمعہ کا دن تھا۔ چند عرب نوجوانوں کے ساتھ میں مانچسٹر گیا۔ وہاں کی مسجد میں جمعہ کی نماز پڑھی۔ یہاں کے امام کوئی فلسطینی یا اردنی تھے۔ انھوں نے فلسطین میں دشمنانِ اسلام کے ظلم اور سازش پر انگریزی میں پرجوش تقریر کی۔ دنیا کے جس حصہ میں بھی آپ جائیں وہاں کے مسلمانوں کے مجالس یا اجتماعات کا مشترک موضوع صلیبیوں، صہیونیون وغیرہ کی سازش ہوتا ہے۔ یہ کوئی نہیں سوچتا کہ ان نام نہاد سازشوں کا اعلان تو سو سال سے کیا جا رہا ہے۔ مگر اس کا ذرہ برابر

‹ Previous page Next page › Contents of November 1995 All issues

Printed page