Own this house from £ per week.
الرسالہ، نومبر ۱۹۹۵، صفحہ ۴۰
بھی کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔ پھر اس کو مزید جاری رکھنے کا کیا فائدہ۔
میں نے ایک مجلس میں کہا کہ دوسو سال پہلے مسلمان غلبہ کی حالت میں تھے۔ اس کے بعد ان پر ضعف کا دور آیا۔ اس کے بعد یورپی استعمار نے ان کو مغلوب کر لیا۔ ۱۳ ستمبر ۱۹۹۳ کو فلسطینی لیڈروں کا اسرائیل کا اعتراف کر لینے کے بعد ملت کی تاریخ ذلت کے دور میں داخل ہو گئی۔ اس درمیان میں ہزاروں بڑی بڑی شخصیتیں پیدا ہوئیں، سیکڑوں بڑی بڑی تحریکیں اٹھیں۔ مسلمانوں نے بے شمار قربانیاں دیں مگر نتیجہ معکوس صورت میں نکلا۔ غلبہ کے بعد ضعف، اس کے بعد مغلوبیت اور اس کے بعد ذلت، یہ تاریخ بتاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نظر میں موجودہ پر شور تحریکوں کی کوئی قیمت نہیں۔ اگر ان کی قیمت ہوتی تو موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کا یہ انجام نہ ہوتا۔
یہاں کی ایک مسجد میں دیوار پر ایک تختی لگی ہوئی نظر آئی۔ نیچے رحل کی صورت میں پیتل کی دو تلواریں بنی ہوئی تھیں اور اس کے اوپر اللہ لکھا ہوا تھا۔ پوچھنے پر لوگوں نے بتایا کہ عرب ممالک میں اس قسم کی تختی عام ہو گئی ہے۔ مسجد، ادارہ، مکان ہر جگہ لوگوں نے اس کو لگا رکھا ہے۔
مجھے اس کو دیکھ کر سخت تکلیف ہوئی۔ میں نے کہا کہ اللہ کے رسول نے تو دعا میں کہا تھا کہ اللھم انت السلام ومنك السلام واليك يرجع السلام۔ مگر یہ مسلمان اس پر راضی نہیں ہوئے۔ اس کو بدل کر انھوں نے اپنی دیواروں پر یہ لکھ دیا کہ ــــ اللھم انت السیف۔ یہ بلاشبہ جرم ہے نہ کہ کوئی اسلامی عمل۔
ایک صاحب نے سوال کیا کہ اسلامی عقیدہ کے مطابق خدا لامحدود ہے۔ وہ کیسے؟ میں نے کہا کائنات محدود ہے اور محدود کو محدود پیدا نہیں کر سکتا۔ صرف لا محدود ہی محدود کو پیدا کر سکتا ہے۔ و الكون محدود وھذا يدل على ان الخالق لا محدود ۔ فان لم يكن الخالق لا محدود لما استطاع ان يخلق المعدود)
دگن کا ایک علاقائی اخبار نکلتا ہے اس کا نام وگن رپورٹر (Wigan Reporter) ہے۔ اس کے شمارہ ۲۳ ستمبر ۱۹۹۳ میں جیک وھٹگر (Jack Whittacker) کے نام سے ایک مراسلہ پڑھا۔ اس
‹ Previous page Next page › Contents of November 1995 All issues