Al-Risala · November 1995 · page 41

Own this house from £ per week.

الرسالہ، نومبر ۱۹۹۵، صفحہ ۴۱

کے آخر میں یہ الفاظ درج تھے کہ میں خود سوچتا ہوں اور میں خود اپنی رائے قائم کرتا ہوں ۔ مگر ہمیشہ دوسروں کا نقطہ نظر سننے کا خواہشمند رہتا ہوں۔ ممکن ہے کہ میں ان سے اتفاق نہ کروں مگر میں ان کا احترام کرتا ہوں :

I do my own thinking and form my own opinions but always willing to listen to other people’s opinions. I may not agree but I do respect them. (Jack Whittacker)

مکہ مدینہ کا فرق بتاتے ہوئے کچھ عرب نوجوانوں سے میں نے ہجرت کے بارے میں کہا : بعد ما نظرت في هذه الحقائق فسوف تقول ان الهجرة لم يكن كفرا، ربل الهجرة كانت الذهاب من اللافرصة الى الفرصة - ایک عرب نوجوان نے ۲۵ ستمبر کی ملاقات میں بتایا کہ وہ اسلامی مرکز کی عربی مطبوعات سے متاثر ہوئے۔ اس کے بعد ایک تقلیدی شخص ان سے جھگڑنے لگا۔ اور کہا کہ وحید الدین خاں کی کتاب مت پڑھو ورنہ تم گمراہ ہوجاؤ گے۔ آخر کار دونوں میں طے ہوا کہ وہ مانچسٹر کے ایک عالم کے پاس جائیں اور اس سے اس کا فیصلہ لیں۔ چنانچہ دونوں مانچسٹر کے عالم کے پاس گئے۔ عالم نے مذکورہ شخص سے پوچھا کہ وحید الدین خاں کی کتابوں میں آپ نے کیا غلطی پائی ہے۔ اس کے بعد اس شخص نے حکمت الدعوة“ پیش کی اور اس کی ایک غلطی بتائی۔ عالم نے کتاب کا مذکورہ صفحہ پڑھا اور اس شخص نے کہا کہ تم مجھ کو عجمی معلوم ہوتے ہو۔ اس عبارت میں وہ بات موجود ہی نہیں جو تم اس کی طرف منسوب کرتے ہو۔ وہ اسی طرح کی باتیں کرتے رہے۔ آخر میں جب دونوں وہاں سے اٹھے تو مذکورہ عالم نے عرب نوجوان کے کان میں آہستہ سے کہا کہ : لقد أَظْهَر اللهُ لَكَ الحق - یہ واقعہ ۱۰ جون ۱۹۹۳ء کا ہے جو مانچسٹر میں پیش آیا۔ قاہرہ سے ایک مجلہ شائع ہوتا ہے۔ اس کا نام احداث العالم الاسلامی ہے۔ اس کا شمارہ ۱۹۹۳ میں نے دیکھا جو ۷۰ صفحات پر مشتمل تھا۔ اس میں ہندوستان کے مسلمانوں کے بارے میں ۸ صفحات کی رپورٹ تھی۔ اس کو پڑھ کر میں نے کچھ عربوں سے کہا :

اذا ما رأيتم هذه الصفحات عن الهند فسوف تستبطون منها ان الهند هي بلد المشاكل وليست بلد الامكانيات. والهند في الحقيقة، لا غيرها من البلدان، هي بلد الفرص

‹ Previous page Next page › Contents of November 1995 All issues

Printed page