Nigger, Nigger, Black
الرسالہ، نومبر ۱۹۹۵، صفحہ ۴۲
والامكانيات. وكيف لا تكون كذلك. والله سبحانه وتعالى يقول في القرآن: إِنَّ مع العسر يسراً، إنَّ مع العسر يسراً۔
۲۶ ستمبر کو لیبیا کے ایک صاحب سے ملاقات ہوئی۔ وہ کسی ضرورت کے تحت انگلینڈ آئے تھے۔ میں نے پوچھا کہ امریکہ نے لیبیا کے خلاف جو پابندیاں لگائی ہیں ان کے بارہ میں لیبی عوام کی کیا رائے ہے۔ انھوں نے فورا کہا:
الليبيون نتيجة الظلم السياسي والحرمان الاقتصادي وللتحرر من القيد الداخلی ينتظرون أميركا کی تأتی وتستلم البلاد ۔ فھذا حديث رجل الشارع اليوم ۔ میں نے کہا کہ یہ صرف لیبیا کی بات نہیں ہے بلکہ تقریبا تمام مسلم ملکوں کا معاملہ یہی ہے۔ ہر جگہ یہی صورتحال ہے کہ اگر کسی طرح امریکہ ان ملکوں پر قابض ہو جائے تو ہر ملک کے عوام خوش دلی کے ساتھ اس کو قبول کر لیں گے۔ اور اس کا ثبوت یہ ہے کہ ہر مسلم ملک میں جس شخص کو موقع ملتا ہے وہ فوراً پرواز کر کے امریکہ پہنچ جاتا ہے:
هذه حالة كل البلدان الاسلامية ۔ والدليل على هذاهوان كل من تو اتیه الفرصة فانه يستقل اول طائرة لكى يصل الى امريكا ۔
۲۴ ستمبر کی شام کو میں ایک عرب نوجوان کے ساتھ قریب کے ایک پارک میں ٹہلنے کے لئے گیا ۔ ہم لوگ ایک راستہ پر چل رہے تھے۔ اتنے میں دو سفید فام نوجوان ہمارے پاس سے گزرے ۔ ہم لوگوں کو دیکھ کر ان میں سے ایک شخص نے کہا:
Nigger, Nigger, Black
سفید فاموں کی خاص کمزوری نسل پرستی ہے۔ اپنے اس ذہن کی بنا پر وہ ایشیائی اور افریقی لوگوں کو بلیک (سیاہ) کہتے ہیں۔ مذکورہ جملہ تحقیر اور استہزاء کے طور پر تھا۔ میں نے ایک ہندوستانی مسلمان سے کہا کہ آپ لوگ انگلینڈ میں آکر بسے ہوئے ہیں۔ اور وہ آپ کو بلیک کہتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ سب انگریز ایسے نہیں۔ انگریزوں کی اقلیت ایسا کرتی ہے۔ میں نے کہا کہ انڈیا میں بھی ہندوؤں کی صرف اقلیت مسلم مخالف بات کرتی ہے نہ کہ سارے ہندو ۔ پھر یہی اصول آپ انڈیا میں بھی کیوں اختیار نہیں کرتے۔ جس طرح یہاں
‹ Previous page Next page › Contents of November 1995 All issues