Al-Risala · November 1995 · page 47

Nigger, Nigger, Black

الرسالہ، نومبر ۱۹۹۵، صفحہ ۴۷

خبر نامہ اسلامی مرکز ۱۰۳

ویکلی میگزین راشٹریہ سہارا (دہلی) کے نمائندہ مسٹر سیتا رام نے ۲۲۴ مارچ ۱۹۹۵ کو صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ سوالات کا تعلق ہندوستانی مسلمانوں کے مسائل سے تھا۔ ایک سوال کے جواب میں کہا گیا کہ کٹرتا نہ اسلام میں ہے اور نہ کسی دوسرے مذہب میں۔ اصل یہ ہے کہ کسی مذہب کے لوگوں میں جب مذہب کی اسپرٹ باقی نہیں رہتی تو فارم کی اہمیت بڑھ جاتی اسی سے کٹرپن پیدا ہوتا ہے۔ اس کا علاج یہ ہے کہ لوگوں میں پھر سے اسپرٹ پیدا کی جائے۔

ہندی روز نامہ راشٹریہ سہارا کے نمائندہ مسٹر کلیش تر پاٹھی نے ۲۶ مئی ۱۹۹۵ کو صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ کامن سول کوڈ کے سلسلہ میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا گیا کہ مفروضہ کامن سول کوڈ نہ تو ممکن ہے اور نہ مفید۔ حتی کہ زبر دستی ایسا ایکٹ بنا دیا جائے تو عملاً وہ ہر گز چلنے والا نہیں۔ پھر ایسے بے فائدہ کام میں وقت ضائع کرنے کی کیا ضرورت ہے۔

مسز اسماء عرشی نے ۲۷ مئی ۱۹۹۵ کو صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ یہ انٹرویو انگریزی اخبار سنڈے آبزرور کے لئے لیا گیا اور اس کا موضوع کامن سول کوڈ تھا۔ جو ابات کا خلاصہ تھا کہ جدید طبقہ نے کامن سول کوڈ کو ایک فرضی آئیڈیل بنا لیا ہے۔ حالاں کہ موجودہ حالات میں نہ تو ممکن ہے اور نہ اس کا کوئی فائدہ ہے۔ انگریزی ماہنامہ لیگل نیوز اینڈ ویوز (نئی دہلی) کے ایڈیٹر ڈاکٹر بھر ت جھن جھن والا نے ۲۷ مئی ۱۹۹۵ کو صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ سوالات کا تعلق مسلم مسائل سے تھا۔ ایک سوال کے جواب میں کہا گیا کہ انڈین نیشن کی تعمیر کے لئے تمام فرقوں میں یکساں تاریخی شعور پر زور دینا ایک غیر متعلق بات ہے۔ ترقی یافتہ ملکوں میں کہیں بھی تاریخی شعور کی یکسانیت پر قوم نہیں بنی ہے۔ بلکہ سادہ طور پر یکساں وطن کی بنیاد پر قوم بنی ہے ، اور اسی طرح انڈیا میں بھی بن سکتی ہے۔

ایک صاحب نے صدر اسلامی مرکز کی کتاب "پیغمبر انقلاب" کا تامل زبان میں ۲۴ ال سال نومبر ۱۹۹۵

‹ Previous page Next page › Contents of November 1995 All issues

Printed page