Al-Risala · November 1995 · page 48

Nigger, Nigger, Black

الرسالہ، نومبر ۱۹۹۵، صفحہ ۴۸

ترجمہ کیا ہے۔ جس کو وہ دعوتی جذبہ کے تحت چھپوا کر مفت یا علامتی قیمت پر تقسیم کرنا چاہتے ہیں۔ اس سلسلہ میں انھیں مالی تعاون درکار ہے۔ جو اہل خیر حضرات اس کام میں تعاون دینا چاہتے ہیں وہ از راہ کرم حسب ذیل پتہ پر براہ راست رابطہ قائم فرمائیں۔

دی فیڈریشن آف انڈین پبلشرس کی طرف سے ہر سال ملک کی مختلف زبانوں (مثلاً ہندی ، اردو اور انگلش وغیرہ) میں چھپنے والی مطبوعات کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ اور ان میں سے جو کتابیں اپنی خصوصیات کی بنا پر سال کی بہترین مطبوعات سمجھی جاتی ہیں ان پر انعامات دئے جاتے ہیں۔ سال ۱۹۹۴ء کے لئے جن کتابوں کو انعام کا مستحق قرار دیا گیا ان میں ایک اسلامی مرکز کی مطبوعہ " عظمتِ اسلام " کا پیپر بیک ایڈیشن ہے۔ یہ انعام ایک تمغہ اور توصیفی سند پر مشتمل ہے۔

۴ جون ۱۹۹۵ کی شام کو شاہدرہ (چک جیون نگر) سرودھرم سبھاؤ سمیلن ہوا۔ اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اس میں شرکت کی۔ اور مثبت طرزِ فکر اور مذہب احترام پر تقریر کی۔ تقریر کا خلاصہ یہ تھا کہ اختلافات کی اس دنیا میں ایک دوسرے کا احترام کرکے ہی صحت مند سماج بنایا جا سکتا ہے ۔

رشی کیش میں پرمارتھ نکیتن آشر م کے زیر اہتمام ایک بڑا اند ہی جلسہ ہوا ۔ اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اس میں شرکت کی اور 9 جون ۱۹۹۵ کو جلسہ سے خطاب کیا۔ تقریر کا خلاصہ یہ تھا کہ ہندوستان کی ترقی کے لئے دو چیزوں کی ضرورت ہے نیشنل اسپرٹ اور پازٹیو تھنکنگ۔ نیشنل اسپرٹ یہ ہے کہ ذاتی مفاد کی خاطر دیش کے مفاد کو قربان نہ کیا جائے ۔ اور پازٹیو تھنکنگ یہ ہے کہ شکایات کے موقع پر منفی رد عمل سے بچنا اور مثبت رویہ اختیار کرنا۔

دہلی کی ٹی وی تنظیم کمیونی کیشن گروپ) کی ٹیم ۱۴ جون ۱۹۹۵ کو مرکز میں آئی اور صدر اسلامی مرکز کا ویڈیو انٹرویو ریکارڈ کیا۔ سوالات کا تعلق زیادہ تر کامن سول کوڈ سے تھا۔ ایک سوال کے جواب میں کہا گیا کہ مسئلہ یہ نہیں ہے کہ کامن سول کوڈ ہونا ۴۸ الارث از نومبر ۱۹۹۵ء

‹ Previous page Next page › Contents of November 1995 All issues

Printed page