جہانے را دگرگوں کرد یک مردے خود آگاہے
الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۵، صفحہ ۲۲
اقبال کے تمام معتقدین کا متفقہ طور پر یہ دعویٰ ہے کہ پاکستان کی تحریک میں جان ڈالنے والی شخصیت صرف علامہ اقبال کی تھی۔ اقبال کی "حدی خوانی" نے لوگوں کے اندر ایک "اسلامی وطن" حاصل کرنے کی سرشاری پیدا کی۔ یہاں تک کہ ۱۹۴۷ء میں پاکستان کے نام سے ایک علیحدہ مملکت وجود میں آگئی۔ ایسی حالت میں کیسے کہا جاسکتا ہے کہ مسلمان اقبال کی حدی خوانی سے ٹس سے مس نہیں ہوئے۔ اس کے علاوہ بے شمار لوگ ہیں جو اقبال کے پر جوش کلام کو پڑھ کر "مجاہد" بن گئے۔ مثلاً کشمیر کے مسلمان ۱۹۸۹ء سے بزعم خود جس خونی جہاد میں مشغول ہیں اس کی تحریک انھیں اقبال ہی کے کلام سے ملی ہے۔ بوسنیا کے لیڈر اور مجاہد عالیجاہ عزت بیگ نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ موجودہ انقلابی جد و جہد کا جذبہ ان کے اندر اقبال کے کلام کے انگریزی ترجمہ کو پڑھ کر ہی آیا تھا۔ افغانستان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہاں کے مجاہدین کو بھی اقبال کے فارسی کلام سے جنگ و جہاد کا حوصلہ ملا ۔ وغیرہ وغیرہ۔
اس کے علاوہ اقبال کی رجز خوانی کے بالواسطہ اثرات کی فہرست بھی کم نہیں۔ مثلاً مولا نا محمد علی جوہر جن کے متعلق کہا جاتا ہے کہ انھوں نے پورے ہندوستان کو ہلا دیا تھا ، وہ بھی اقبال کے کلام سے متاثر تھے۔ سید ابوالاعلیٰ مودودی جن کے متعلق ان کے معتقدین یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ انھوں نے اپنی کوشش سے ایک نیا عالمی عہد پیدا کر دیا، وہ بھی اپنے اقرار کے مطابق ، اقبال کے کلام سے فیضیاب ہوئے تھے۔ پاکستان کے ڈاکٹر اسرار احمد صاحب آجکل عالمی خلافت کی ہنگامہ خیز تحریک چلا رہے ہیں وہ بھی بار بار یہ اعلان کرتے رہے ہیں کہ انھوں نے اقبال کے کلام سے غیر معمولی طور پر اثر قبول کیا ہے۔ وغیرہ۔
ان حقائق کی روشنی میں غور کیجیے تو معلوم ہوگا کہ مولانا امین احسن اصلاحی کا مذکورہ جملہ اصل واقعہ کی معکوس ترجمانی ہے۔ حقیقی صورت حال برعکس طور پر یہ ہے کہ اقبال کی حدی خوانی نے امت کو حرکت وعمل کا سمندر بنا دیا۔ ان کی حدی خوانی سے نئے ملک وجود میں آئے۔ سردھڑکی بازی لگانے والوں کی فوج کی فوج تیار ہوگئی۔ کتنے مولے شہباز سے لڑ گئے۔ اور کتنے مردِمومن آتش نمرود میں کو دپڑے ۔ مزید یہ کہ ان کی اس انقلابی فیض رسانی کا سلسلہ آج تک بدستور مختلف صورتوں میں جاری ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 1995 All issues