Al-Risala · December 1995 · page 28

Now Boarding — 817

الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۵، صفحہ ۲۸

احمد آباد گجرات کا سب سے بڑا شہر ہے۔ سلطان احمد شاہ نے ۱۴۱۱ میں اس کی بنیاد ڈالی تھی۔ اسی کے نام پر اس کو احمد آباد کہا جانے لگا۔ ۱۵۷۲ء میں مغل حکمران اکبر نے اس پر قبضہ کر لیا۔ ۱۸۱۸ء میں وہ برطانیہ کے ماتحت آگیا۔ انگریزی دور میں یہاں پہلی کاٹن مل ۶۱-۱۸۵۹ ء میں قائم کی گئی۔ احمد آباد اس وقت ہندوستان کا پانچواں سب سے بڑا شہر ہے۔ راستہ میں مختلف اخباردیکھے ٹائمس آف انڈیا ۱۲ نومبر) کے ادارتی صفحہ کے اوپر حسب معمول ویلیس (W.R. Wallace) کا یہ قول نقل کیا گیا تھا کہ جو ہاتھ گہوارہ کو چلاتا ہے وہی وہ ہاتھ ہے جو دنیا پر حکومت کرتا ہے:

The hand that rocks the cradle is the hand that rules the world. یہی عورت کا اصل مقام ہے جو فطرت نے اس کو عطا کیا ہے۔ وہ اس نسل کو تیار کرتی ہے جو بالآخر باہر آکر دنیا کے تمام کاروبار کو سنبھالتی ہے۔ اس اعتبار سے عورت گویا معمار انسانیت ہے۔ مگر جدید تہذیب نے برابری کے مصنوعی اور غیر فطری تصور کے تحت عورت کو گھر کے اندر کے عظیم کردار سے محروم کر دیا۔ اور گھر کے باہر کا رول ادا کرنے کے قابل تو وہ تھی ہی نہیں۔ انگریزی اخبار دی ہندو (۲۱ نومبر) میں مسٹر اندر سین کے ایک آرٹیکل (ہندو ۲۲ اکتوبر کی حمایت میں مسٹروی کمیسوران (مدراس) کا خط چھپا تھا۔ انھوں نے کہا تھا کہ ہمارے کانسٹی ٹیوشن کے بنانے والوں نے یہ بہت بڑابلنڈ رکیا کہ انھوں نے بالغ رائے دہی (adult franchise) کے اصول کو دستور میں جگہ دی۔ ہمارے ملک کی اکثریت جاہل اور بے شعور ہے۔ ایسی حالت میں ہر بالغ آدمی کو ووٹ کا حق دینا گویا قوم کو ایسے لیڈروں کے حوالے کرنا ہے جو خوشنما نعروں کے ذریعہ انھیں بے وقوف بناتے رہیں۔

اس کے نتیجہ میں جو سیاسی کرپشن پیدا ہوا اس کی مثال دیتے ہوئے انھوں نے لکھا تھا کہ رومن ایڈ منسٹریٹر پبلی کو لا (Publicola) جب مرا تو اس نے اتنی رقم بھی نہیں چھوڑی تھی جس سے اس کی آخری رسوم ادا کی جاسکیں۔ جب کہ ہمارے ملک کے حکمران ایک بار حکومت میں آنے کے بعد اتنی دولت جمع کر لیتے ہیں جو ان کی کئی پشتوں کے عیش کے لئے کافی ہو۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 1995 All issues

Printed page