I don’t believe in religion.
الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۵، صفحہ ۳۴
کھانے کے بعد ہم لوگ اپنی قیام گاہ پر آگئے ۔ خلاف معمول آج مجھے دیر میں نیند آئی۔ میری حالت اس انسان کی سی تھی جو نہ مروجہ ماحول میں خوش رہ سکے۔ اور نہ وہ دوسرا ماحول اپنے موافق بنانے پر قادر ہو۔
سیمنار میں شریک ہونے والے لوگوں سے ، نیز شہر کے اہل علم سے مختلف اوقات میں ملاقاتیں ہوتی رہیں ۔ ان سے جو باتیں ہوئیں ان میں سے کچھ مختصر طور پر یہ ہیں ۔ ایک ہندو پروفیسر نے کہا کہ جین دھرم کے بانی مہاویر ڈھائی ہزار سال پہلے پیدا ہوئے ۔ ان کا گرنتھ بہت دنوں تک زبانی طور پر چلتا رہا ۔ صرف ایک ہزار سال پہلے اس کو لکھا گیا ۔ ہندوؤں کے وید اور بھی ہزاروں سال پہلے سے ہیں ۔ مگر وہ بھی صرف پہلی صدی عیسوی میں لکھے گئے ۔ ایسی حالت میں کیسے یقین کیا جا سکتا ہے کہ جین دھرم اور ہندو دھرم کے جو گر نتھ پستکوں کی صورت میں ہمارے پاس ہیں وہ ٹھیک وہی ہیں جیسا کہ وہ شروع میں تھے ۔ زبانی روایت میں ہمیشہ بات بدل جاتی ہے ۔ اس لئے ان گرنتھوں میں بھی ضرور تبدیلی آئی ہوگی ۔ پھر انھوں نے کہا کہ قرآن میں بھی ضرور ایسا ہی ہوا ہوگا ۔ آج جو قرآن ہے وہ وہی نہیں ہو سکتا جو پیغمبر صاحب کے زمانہ میں تھا ۔ میں نے کہا کہ دوسرے مذہب کے گر نتھوں کے بارہ میں آپ کی بات درست ہے ۔ مگر قرآن کے بارہ میں تاریخی طور پر یہ بات درست نہیں ۔ کیوں کہ قرآن جب اترتا تھا اسی وقت وہ لکھ بھی لیا جاتا تھا ۔ دوسرے مذہبی گرنتھوں کے برعکس ، قرآن وہ استثنائی کتاب ہے جس میں تلاوت اور تحریر یہ دونوں اول دن سے ساتھ ساتھ چل رہی ہے ۔ اس لئے قرآن میں تبدیلی کا کوئی سوال نہیں ۔ ایک تعلیم یافتہ مسلمان نے کہا کہ ہم دنیا میں ایک بلین سے زیادہ ہیں ۔ اگر سب مل کر کام کریں تو ہم بہت بڑی طاقت بن سکتے ہیں ۔ اس کے بعد انھوں نے چند تجویزیں پیش کیں ۔ مسلم ممالک اپنے درمیان کا من ڈیفنس کا ایک نظام بنائیں ۔ مسلمان اپنی ایک عالمی نیوز ایجنسی قائم کریں ۔ مسلم ملکوں کی ایک یونائیٹڈ آرگنائزیشن ہو ۔ مسلم ملکوں کا ایک سنٹرل بینک بنایا جائے ۔ مسلم ملکوں کا ایک کامن مارکیٹ قائم کیا جائے اس قسم کی کچھ بڑی بڑی تجویزیں پیش کرنے کے بعد انھوں نے کہا :
A beginning has to be made. Let us make a beginning.
‹ Previous page Next page › Contents of December 1995 All issues