Al-Risala · December 1995 · page 35

I don’t believe in religion.

الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۵، صفحہ ۳۵

میں نے کہا کہ یہ آغاز نہیں ہے۔ آپ اختتام سے آغاز کرنا چاہتے ہیں۔ ۔ حالاں کہ آغاز تو ہمیشہ ابتدا ہی سے ہوتا ہے۔ اس وقت مسلمانوں کے لئے ایک ہی نقطۂ آغاز ہے، اور وہ تعلیم ہے۔ ہمارے درمیان جب تک تعلیم عام نہ ہو جائے، کوئی بھی بڑا کام نہیں کیا جاسکتا۔ ایک تعلیم یافتہ مسلمان سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے کہا کہ آپ ہمیشہ صبر و اعراض کی بات کرتے ہیں۔ یہ تو مسلمانوںکی غیر تِ ملی کے خلاف ہے۔ میں نے کہا کہ یہ غیرتِ ملی کا مسئلہ نہیں، بلکہ یہ حیثیتِ ملی کا مسئلہ ہے۔

مسلمان عام معنوں میں کوئی قوم نہیں ہیں۔ وہ پیغمبر آخر الزماں کی امت ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ختم نبوت کے بعد مسلمان مقام نبوت پر ہیں۔ ان کو دعوت کا وہ کام انجام دینا ہے جس کے لئے پیغمبر آیا کرتے تھے۔ مسلمان اور دوسری قوموں کے درمیان داعی اور مدعو کا تعلق ہے نہ کہ ایک قوم اور دوسری قوم کا۔

مسلمان کی یہی حیثیت اس کے اوپر لازم کر دیتی ہے کہ وہ اپنی مدعو قوموں کی زیادتیوں پر صبر کرے۔ اس ملک میں مسلمان پندرہ فیصد ہیں اور غیر مسلم پچاسی فیصد۔ ایسی حالت میں لازماً ایسا ہوگا کہ دوسروں کی طرف سے مسلمانوں کو ناخوشگواری یا زیادتی کا تجربہ ہوگا۔ اس ناخوشگواری یا زیادتی کے مقابلہ میں انھیں دَعُ اَذَاهُمْ کے قرآنی اصول پر عمل کرنا ہے۔ اگر مسلمان ایسا نہ کریں تو اس کے بعد ان کا امت محمدی ہونا خدا کی نظر میں غیر متحقق ہو جائے گا۔ جو ماں اپنے بچہ کی باتوں کو برداشت نہ کرے وہ ماں ہی نہیں ایک طالب علم نے کہا کہ آج کا نوجوان پیچھے کی طرف نہیں دیکھتا۔ وہ صرف آگے کے بارہ میں سوچتا ہے۔ میں نے پوچھا کہ یہ بتائیے کہ ہمارے کتنے نوجوان ایسے ہیں جو سائنٹفک ریسرچ میں دلچسپی رکھتے ہوں۔ انھوں نے کہا کہ مجھے تو آج تک کوئی اسٹوڈنٹ ایسا نہیں ملا جو یہ کہے کہ میں اپنی زندگی سائنسی ریسرچ کے لئے وقف کر دوں:

My intention is to devout my life in scientific research. میں نے کہا کہ پھر آپ کو یہ کہنا چاہئے کہ آج کا نوجوان صرف پیہ یا کیریئر کے بارہ میں سوچتا ہے۔ یہ آگے کی طرف سوچنا نہیں ہے۔ آگے کی طرف سوچنا یہ ہے کہ ہمارے نوجوانوں میں ریسرچ کا شوق ہو۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 1995 All issues

Printed page