Al-Risala · December 1995 · page 36

I don’t believe in religion.

الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۵، صفحہ ۳۶

وہ نئی نئی چیزیں دریافت کرنا چاہتے ہوں ۔ وہ دنیا کو کوئی نیا سائنسی تحفہ دینے کا حوصلہ رکھیں۔ ۱۳ نومبر کی صبح کو ہم لوگ اپنی قیام گاہ سے وائیجیا بھون رریس کورس سرکل لے جائے گئے یہاں کے ہال میں ساڑھے نو بجے سمنار کا پہلا سشن شروع ہو رہا تھا۔ اس کے چیئرپرسن پروفیسررشیدالدین خاں تھے۔ اس کا موضوع تھا ۔ کیا پالی ٹکس اور مذہب کو الگ کیا جا سکتا ہے؟ Can politics and religion be separated? انیس آدمیوں نے اس بحث میں حصہ لیا ۔ ایک صاحب نے کہا کہ سمنار گویا ذہنوں کا اختلاط (interaction of minds) ہے۔ تاہم میرا تجربہ ہے کہ یہ اختلاط تو ہے مگر وہ اتحاد نہیں۔ تعلیم یافتہ طبقہ کا ہر فرد خود پسند (egoist) ہوتا ہے۔ اس لئے تعلیم یافتہ لوگوں کو کسی ایک نقطہ نظر پر متفق کرنا انتہائی مشکل ہے۔ اس سمنار میں ہر آدمی نے کوئی ایک پہلو لے کر اس پر ایک خوبصورت تقریر کر ڈالی ۔ چند باتیں بطور مثال یہاں نقل کی جاتی ہیں :

ایک صاحب نے کہا کہ اجودھیا میں رام رحیم ٹرسٹ قائم کیا جائے۔ ایک صاحب نے کہا کہ انڈیا کے تمام مسائل کی جڑ جہالت اور نا خواندگی ہے۔ کسی نے کہا کہ تمام مسائل کی جڑ اقتصادی پسماندگی ہے۔ کسی نے مذہب کو کسی لے پولیٹیکل کرپشن کو، کسی نے پارٹیشن کو کسی نے سیکولر کانسٹی ٹیوشن کو ساری خرابیوں کا ذمہ دار بتایا۔

میں نے کہا کہ مہاتما گاندھی نے کہا تھا کہ جس دن مذہب کو سیاست سے الگ کر دیا جائے گا اس دن انڈیا تباہ ہو جائے گا، دوسری طرف بہت سے لوگ کہتے ہیں کہ مذہب کو سیاست سے ملانے ہی کی وجہ سے انڈیا تباہ ہوا ہے، اس لئے دونوں کو الگ کر دینا ضروری ہے۔ اس اختلاف کا سبب یہ ہے کہ مہاتما گاندھی نے مذہب کو اس کے اصل پہلو کے لحاظ سے لیا تھا اور آجکل کے لوگ مذہب کو سیاسی استحصال کے لئے لے رہے ہیں۔

ایک صاحب کی بات کے جواب میں میں نے کہا کہ سیاست وہی ہے جو حالات کے اعتبار سے قابل عمل ہو۔ موجودہ حالات میں مذہبی سیاست قابل عمل نہیں۔ کیوں کہ اس کے موافق ذہنی فضا ملک میں موجود نہیں ۔ اس وقت ہم جن حالات کے درمیان ہیں اس میں قابل عمل سیاست صرف ایک ہے ، اور وہ سیکولر سیاست ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 1995 All issues

Printed page