Al-Risala · February 1995 · page 15

شعور کی اہمیت

الرسالہ، فروری ۱۹۹۵، صفحہ ۱۵

شعور کی اہمیت

شہر میں ایک آدمی کے پاس گھر نہیں تھا۔ وہ دن بھر کماتا اور شام کو فٹ پاتھ پر سو جاتا۔ کبھی کوئی سایہ دار جگہ تلاش کر کے وہاں رات گزارنے کی کوشش کرتا۔ اس زمانہ میں اس کا تقویٰ بہت بڑھا ہوا تھا۔ اس کی نماز خشوع سے بھری ہوئی تھی۔ وہ دعا کے لئے ہاتھ اٹھاتا تو آنسوؤں سے اس کی داڑھی تر ہو جاتی۔ وہ ہر وقت خدا کو اس طرح یاد کرتا جیسے کہ وہ خدا کے بالکل قریب پہنچ گیا ہے۔

آخر چند سال بعد اس کے پاس ایک ذاتی مکان ہو گیا۔ بجلی اور پانی کی سہولت بھی اس کو حاصل ہو گئی۔ یہاں تک کہ مزید کمائی کر کے اس نے اپنے گھر میں ٹیلی فون لگوا لیا اور اسی طرح دوسری چیزیں بھی۔ یہ سب تو ہوا مگر دھیرے دھیرے اس کا تقویٰ ختم ہو گیا۔ اب اس کی آنکھ کے آنسو خشک ہو گئے ۔ خدا کی درد بھری یاد اس سے رخصت ہو گئی۔ اس نے اپنے لئے ایک گھر تو پا لیا مگر اس نے اپنے خدا کو کھو دیا۔

ایسا کیوں ہوا۔ اس کی وجہ شعور کی کمی تھی۔ مذکورہ آدمی اپنی بے شعوری کی بنا پر اس وقت اپنے کو غیر محفوظ سمجھتا تھا جب کہ اس کے پاس ذاتی گھر نہیں تھا۔ ذاتی گھر ملنے کے بعد اس کا احساس یہ ہو گیا کہ اب مجھے محفوظ زندگی حاصل ہو گئی ہے۔ کیوں کہ اب میرے پاس اپنا ذاتی مکان ہو گیا ہے۔ مکان ملنے سے پہلے وہ اپنے آپ کو عاجز محسوس کرتا تھا اس لئے اس کے اندر تقویٰ کی کیفیت بھی اعلیٰ درجہ میں ابھری ہوئی تھی ۔ مگر مکان ملنے کے بعد اس کا احساس عجز جاتا رہا، اس لئے تقویٰ کی کیفیت بھی اس سے رخصت ہو گئی۔

اس کا مطلب یہ نہیں کہ زندگی کی سہولتیں نا جائز یا قابل ترک ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اس آدمی کے ساتھ فرق کا یہ معاملہ بے شعوری کی بنا پر پیش آیا ۔ اس کا سبب خارجی سامان حیات میں نہ تھا بلکہ خود اس آدمی کے اپنے دماغ میں تھا۔ اس کا سبب اس کے شعور کی نا پختگی تھی۔ اگر وہ پختہ شعور والا ہوتا تو وہ اس انجام سے دوچار نہ ہوتا۔

اس آدمی کا شعور اگر بڑھا ہوا ہوتا تو اس کو معلوم ہوتا کہ بظاہر محفوظ زندگی حاصل کرنے کے باوجود

‹ Previous page Next page › Contents of February 1995 All issues

Printed page