Al-Risala · December 1995 · page 42

I don’t believe in religion.

الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۵، صفحہ ۴۲

انھوں نے قریب آکر پوچھا : آپ کا رسالہ ابھی نکل رہا ہے۔ اس عجیب سوال کا میں کوئی جواب نہ دے سکا۔ مجھے ایسا محسوس ہوا جیسے کہ وہ پوچھ رہے ہوں : ”آپ کی موت ابھی واقع نہیں ہوئی“۔ مذکورہ بزرگ کی طرف میں نے حیرانی کے ساتھ ایک نظر ڈالی اور پھر ان کو سلام کر کے خاموشی کے ساتھ گاڑی میں سوار ہو گیا جو مجھے قیام گاہ لے جانے کے لئے وہاں کھڑی ہوئی تھی۔ ۴ نومبر کی صبح کو نیند کھلی تو باہر پھیلے ہوئے درختوں کی قطاروں سے مختلف چڑیوں کی آوازیں آنے لگیں۔ کوا ، کوئل اور بلبل وغیرہ۔ صبح کے سہانے میں یہ آوازیں عجیب کیفیت پیدا کر رہی تھیں۔ میں نے سوچا کہ خدا کے باغ میں کوے کی کائیں کائیں بھی ہے اور بلبل کے چہچہے بھی۔ یہاں کوئل کی کوک بھی ہے اور فاختہ کی غٹرغوں بھی۔ یہ خدا کی تخلیقی اسکیم ہے۔ اب جو لوگ انسانی زندگی میں یکسانی لانے کے لئے اس کے اوپر اپنا کلچرل رولر چلانا چاہتے ہیں وہ خدا کی تخلیقی اسکیم کی نفی کرنا چاہتے ہیں۔ ایسا منصوبہ فطرت کے خلاف ہے، اور جو چیز فطرت کے خلاف ہو وہ خدا کی اس دنیا میں کبھی کامیاب ہونے والی نہیں۔

۴ نومبر کی صبح کو ناشتہ کی میز پر پروفیسر رشید الدین خاں (جامعہ ہمدرد، نئی دہلی) کا ساتھ تھا۔ انھوں نے بتایا کہ جواہرلال نہرو کو اقبال کے یہ معنی خیز اشعار بہت پسند تھے، اور وہ اکثر ان کو اپنی تقریروں میں دہرایا کرتے تھے:

یونان و مصر و روما سب مٹ گئے جہاں سے اب تک مگر ہے باقی نام و نشاں ہمارا کچھ بات ہے کہ ہستی مٹتی نہیں ہماری صدیوں رہا ہے دشمن دور زماں ہمارا انڈین ایکسپریس کے بروڈہ ایڈیشن (۴ نومبر ۱۹۹۴) میں ایو دھیا پر ڈائرکٹر پرمستر کلدیپ نائر کا ایک مضمون چھپا ہوا تھا۔ اس میں انھوں نے لکھا تھا کہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہندو یہ دعویٰ کرتے ہیں بابری مسجد کے مقام پر ایک رام مندر تھا، اس کو توڑ کر عین اسی مقام پر مسجد بنائی گئی۔ مسلمان اس دعویٰ کو چیلنج کرتے ہیں۔ اس معاملہ میں وہ اس حد تک گئے ہیں کہ وہ کہتے ہیں کہ اگر یہ ثابت ہو جائے کہ مسجد بنانے کے لئے مندر کو ڈھایا گیا تھا تو وہ خود اس کو چھوڑ دیں گے۔ اب سوال یہ ہے کہ کون اس کو طے کرے کہ وہاں کون سی عمارت موجود تھی ، مندر یا مسجد۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 1995 All issues

Printed page