I don’t believe in religion.
الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۵، صفحہ ۴۳
They (Muslims) have gone to the extent of saying that if it is proved that the temple was destroyed to raise the mosque, they would themselves disown it. Who is to decide? Which structure was there initially: temple or mosque? مسٹر کلدیپ نائر یہاں اس واقعہ کا ذکر کرنا بھول گئے جو ۲۷ مارچ ۱۹۸۷ کو نئی دھلی کے وٹھل بھائی پٹیل ہاؤس میں پیش آیا تھا۔ یہاں بابری مسجد اور رام مندر کے سوال پر ایک مشترکہ میٹنگ ہوئی تھی جس میں خود مسٹر کلدیپ نائر بھی موجود تھے۔ اس میں ہندو سائیڈ اور مسلم سائیڈ دونوں طرف کے لوگ شریک ہوئے ۔ یہ بحث کلیم اور کاونٹر کلیم کی صورت میں دیر تک چلتی رہی۔ آخر میں میں نے کہا کہ اس طرح کی بحث سے تو کوئی فائدہ ہونے والا نہیں۔ درست طریقہ یہ ہے کہ ثالثی آربٹریشن) کے اصول پر اس کو حل کیا جائے۔ میں نے کہا کہ تاریخ دانوں کا ایک بورڈ بنا دیا یہ بورڈ تاریخی جائزہ لے کر جس نتیجہ تک پہنچے اس کو دونوں فریق مان لیں۔ اس تجویز سے کلدیپ نائر سمیت ، شرکا کی اکثریت نے اتفاق کیا۔ قریب تھا کہ وہ اتفاق رائے سے منظور ہو جائے کہ عین اسی وقت بابری مسجد ایکشن کمیٹی کے کنوینر صاحب نے با آواز بلند کہنا شروع کیا کہ ہم اس تجویز کو نہیں مانتے ۔ اس کے بعد انھوں نے اتنا شور مچایا کہ مزید گفتگو جاری رکھنا ناممکن ہوگیا۔ چنانچہ مجلس چائے کے لئے اٹھ گئی اور کوئی بات طے نہ ہوسکی۔ میرے کمرہ میں ایک ٹی وی سیٹ رکھا ہوا تھا، مگر میں نے اس کو کبھی نہیں کھولا۔ ۱۱۴ نومبر کی صبح کو روانگی کے وقت تجربہ کے لئے میں نے اس کی سوئچ دبا دی تو اسکرین پر روشن حروف میں ہندی، اردو، انگریزی میں یہ الفاظ لکھ اٹھے :
نمستے جی ، خوش آمدید ، ہیلو۔
یہ انتظام شاید اس لئے ہوگا کہ آنے والا آدمی جب کمرہ میں داخل ہو کر اس کو کھولے تو وہ نئے آنے والے کو گیسٹ ہاؤس کی طرف سے استقبال کا کلمہ پیش کر سکے۔ مشین نے اپنا کام کیا۔ مگر مشین کو یہ معلوم نہ تھا کہ اس وقت اسے اپنے مہمان کو الوداع کہنا ہے نہ کہ خوش آمدید۔
مشینی دماغ اور انسانی دماغ کا فرق یہی ہے۔ مشینی دماغ فیڈ کئے ہوئے سبق کو دہراتا ہے، جب کہ انسان خود اپنی سوچ کے تحت اپنا جواب وضع کرتا ہے۔
۴ نومبر کو واپسی کا دن تھا۔ صبح چائے سے فارغ ہونے کے بعد میں اور پروفیسر رشید الدین
‹ Previous page Next page › Contents of December 1995 All issues