Al-Risala · February 1995 · page 16

شعور کی اہمیت

الرسالہ، فروری ۱۹۹۵، صفحہ ۱۶

وہ غیر محفوظ ہے۔ اچھے گھر کا مالک ہونے کے باوجود اب بھی وہ اتنا ہی عاجز ہے جتنا کہ وہ پہلے عاجز تھا۔ عجز و افتقار کے اعتبار سے اس کی زندگی میں کوئی فرق واقع نبنیں ہوا۔ ایک گھر یا ایک محل تو بہت چھوٹی چیز ہے۔ اگر پوری کی پوری زمین کسی آدمی کے قبضے میں آجائے تب بھی اس کا عجز مکمل طور پر باقی رہے گا۔ کیوں کہ زمین کیا ہے۔ زمین ایک وسیع خلا میں معلق ہو کر سورج کے گرد گھوم رہی ہے۔ اس معلق زمین کو سنبھالنے والا کوئی انسان نہیں۔ انسان کی طاقت سے باہر ہے کہ وہ زمین کو سنبھال سکے۔

جس طرح ایک گھر کو سنبھالنے والا خدا ہے، اسی طرح یہ صرف خدا ہے جو اس پوری زمین کو اپنی غیر معمولی طاقت کے ذریعہ سنبھالے ہوئے ہے۔ خدا اگر ایک لمحہ کے لئے اپنی قیومیت واپس لے لے تو زمین اور اس کے تمام باشندے تباہ ہو کر رہ جائیں۔

آدمی اگر خدا اور عالمِ فطرت کو جانے۔ اس کے اندر حقیقت واقعہ کا گہرا شعور ہو تو اس کا احساس عجز ہر حال میں باقی رہے گا۔ وہ محل کے اندر بھی اپنے آپ کو اتنا ہی عاجز محسوس کرے گا جتنا کہ کسی درخت کے نیچے ۔ اور جب احساسِ عجز باقی رہے گا تو تقویٰ بھی بدستور باقی رہے گا، وہ کسی حال میں اس سے رخصت نہ ہو گا۔

اعلیٰ دینداری اعلیٰ شعور کے بغیر ممکن نہیں۔ جو لوگ کم تر شعور کے ساتھ دیندار ہیں ان کا حال بہت جلد مذکورہ آدمی جیسا ہو جائے گا۔ وہ دینی تڑپ کے ساتھ اپنی زندگی کا آغاز کریں گے اور پھر ایک بے تڑپ حیوان بن کر دنیا میں باقی رہ جائیں گے۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 1995 All issues

Printed page