Al-Risala · February 1995 · page 17

نتیجہ خیز عمل

الرسالہ، فروری ۱۹۹۵، صفحہ ۱۷

نتیجہ خیز عمل

ایک تعلیم یافتہ مسلمان نے سوال کیا کہ ہندوستانی مسلمانوں کے مسائل کا حل کیا ہے۔ میں نے کہا کہ صبر۔ انھوں نے کہا کہ صبر کا کیا مطلب ہے۔ میں نے کہا کہ صبر کا مطلب ہے ـــــ مسائل کو نظر انداز کر کے مواقع کو استعمال کرنا۔

انھوں نے کہا کہ میں مانتا ہوں کہ صبر کا حکم قرآن میں ہے۔ مگر صبر کوئی مطلق چیز نہیں۔ جب کھلم کھلا اشتعال انگیزی کی جائے۔ جب ہم صاف طور پر دیکھیں کہ مسلمانوں کے اوپر زیادتی کی جارہی ہے تو اس وقت صبر کیسے کیا جائے گا۔ ایسی حالت میں صبر کرنا تو بزدلی اور شکست خوردگی کے ہم معنی ہو گا۔ میں نے کہا کہ آپ نے صبر کا معیار غلط قائم کیا ہے۔ صبر کے اختیار یا ترک کا معیار یہ نہیں ہے کہ صبر کرنے میں آپ کو بزدلی یا شکست خوردگی نظر نہ آئے تو آپ صبر کریں اور جب صبر کا طریقہ آپ کو بزدلی اور شکست خوردگی دکھائی دے تو آپ صبر کو چھوڑ دیں۔ یہ جز باتیت ہے، جب کہ معیار ہمیشہ اصولی بنیاد پر طے کیا جاتا ہے۔

صبر کا حقیقی معیار صرف ایک ہے، اور وہ رزلٹ (نتیجہ) ہے۔ صبر کا اصول صرف اس وقت توڑا جا سکتا ہے جب کہ اس میں کوئی مثبت نتیجہ ملنے والا نہ ہو، بصورت دیگر، صبر کی روش پر قائم رہنا ضروری ہوگا۔ خواہ بظاہر وہ بزدلی اور شکست خوردگی کیوں نہ دکھائی دیتا ہو۔

قدیم مکہ میں مسلمانوں کے خلاف ہر طرح کی اشتعال انگیزی جاری تھی۔ ہر قسم کا ظلم ان پر کیا جا رہا تھا۔ حضرت عمر نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ ان ظالموں کے خلاف جہاد کیا جائے۔ آپ نے فرمایا کہ اے عمر! ابھی ہم تھوڑے ہیں (یا عمر أنا قلیل) گویا مسلمان جب قلیل ہوں اور فریق مخالف کثیر ہو تو ظلم کے باوجود ٹکر آؤ کا طریقہ اختیار نہیں کیا جائے گا۔ کیوں کہ ایسے اقدام کا کوئی فائدہ نہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ اسلام میں صرف اسی اقدام کی اجازت ہے جو نتیجہ خیز ہو، جو اقدام بے نتیجہ ہو کر رہ جائے یا جس اقدام کا الٹا انجام نکلنے والا ہو، وہ سنت رسول کے خلاف ہے۔ اور جو عمل سنت رسول کے خلاف ہو وہ بلاشبہ اللہ کے یہاں غیر مقبول قرار پائے گا۔ نتیجہ کو سامنے رکھ کر اپنا رویہ مقرر کرنا اسلام ہے، اور نتیجہ سے بے پروا ہو کر جوش وجذبہ کے تحت اقدام کرنا جاہلیت۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 1995 All issues

Printed page