Al-Risala · February 1995 · page 18

تجارتی شعور

الرسالہ، فروری ۱۹۹۵، صفحہ ۱۸

تجارتی شعور

دہلی کے ایک مسلمان ہیں جو کامیاب موٹر میکینک سمجھے جاتے ہیں۔ ان کی کامیابی کا راز کیا ہے، اس کا اندازہ ان کے ایک واقعہ سے ہوتا ہے :

۱۹۸۲ میں یہ خبر پھیلی کہ جاپانی کمپنی سوزوکی کی بنائی ہوئی ماروتی کار بازار میں آنے والی ہے۔ مذکورہ مسلمان کے دماغ میں فورا یہ بات آئی کہ جب ماروتی گاڑی انڈیا کی سڑکوں پر دوڑنے لگے گی تو ساتھ ہی اس کی سروس اور مرمت کا کام بھی شروع ہو جائے گا۔ اس وقت جو آدمی اس کام کو جانتا ہو گا وہ یقیناً بہت کامیاب رہے گا۔

مذکورہ مسلمان کو معلوم تھا کہ جاپان کی سوزوکی کمپنی پچھلے دس سال سے پاکستان میں یہی گاڑی بنا کر بیچ رہی ہے۔ وہاں کی سڑکوں پر ہزاروں کی تعداد میں یہ گاڑیاں چل رہی ہیں۔ چنانچہ انھوں نے اس کا کام سیکھنے کے لئے پاکستان جانے کا فیصلہ کیا۔ وہ دہلی سے کراچی گئے۔ وہاں وہ دو مہینہ رہ کر سوزوکی کار کی مرمت اور سروس کا کام سیکھتے رہے۔ اور پھر دوبارہ دہلی واپس آ گئے۔ ہندوستان میں بنی ہوئی ماروتی گاڑی جب یہاں کی سڑکوں پر چلنے لگی، اس وقت وہ اس کا کام سیکھ چکے تھے۔ چنانچہ انھوں نے ماروتی کا کام لینا شروع کر دیا۔ گاہکوں کو ان کا کام پسند آگیا۔ انھوں نے ماروتی کار کی سروس میں کافی پیسے کمائے۔

غور کیجئے تو مذکورہ مسلمان کی اس کامیابی میں تین چیزیں شامل ہیں ۔ واقفیت، پیش بینی، اور اقدام ۔ وہ اس سے واقف تھے کہ پاکستان میں سوزوکی کمپنی کی گاڑیاں چل رہی ہیں۔ پھر انھوں نے پیشگی طور پر یہ اندازہ کیا کہ جلد ہی ہندوستان میں ان گاڑیوں کی سروس اور مرمت کا کام شروع ہونے والا ہے۔ پھر ان کے اندر یہ جرأت تھی کہ وہ اس کی طرف اقدام کر سکیں۔

انھیں اوصاف کا نام تجارتی شعور ہے۔ اور جس آدمی کے اندر یہ تجارتی شعور ہو وہ اس دنیا میں کامیاب ہو کر رہتا ہے۔ کامیابی ایک ففٹی ففٹی کا معاملہ ہے۔ اس کا تعلق پچاس فیصد امکانات سے ہے، اور پچاس فیصد اس کو استعمال کرنے کی صلاحیت سے۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 1995 All issues

Printed page