Al-Risala · January 1995 · page 8

قناعت

الرسالہ، جنوری ۱۹۹۵، صفحہ ۸

قناعت

عبد اللہ بن عمرو بن العاص کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس شخص نے فلاح پائی جو اللہ کے آگے جھک گیا۔ جس کو بقدر ضرورت رزق ملا اور اللہ نے جتنا اس کو دیا اس پر اس نے قناعت اختیار کی :

عن عبدالله بن عمرو بن العاص انّ رسول الله صلى الله عليه وسلم قال۔

قد افلح من اسلم و رزق كفافا وقنّعة الله بما آتاه (صحیح مسلم، كتاب الزكاة، باب فضل التعفف والصبر والقناعة والحث على كل ذلك)

قناعت (contentment) کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آدمی عمل کرنا چھوڑ دے۔ قناعت کا لفظ عمل کا الٹ نہیں ہے بلکہ وہ ہوس کا الٹ ہے۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ پوری طرح ایک فعال زندگی گزارے۔ مگر اسی کے ساتھ وہ زیادہ کی خواہش سے اپنے آپ کو بچائے۔ کیوں کہ زیادہ کی خواہش رکھنے والا آدمی کبھی اس دنیا میں مطمئن نہیں ہو سکتا۔

قناعت کا تعلق عمل سے نہیں ہے بلکہ نتیجہ عمل سے ہے۔ عمل تو زندگی کا تقاضا ہے۔ ایک زندہ آدمی کبھی عمل سے خالی نہیں ہوسکتا۔ مگر نتیجہ کا تعلق بہت سی خارجی چیزوں سے ہوتا ہے۔ اس لیے آدمی کو چاہیے کہ اپنی حد تک وہ عمل میں کوتاہی نہ کرے ، اور نتیجہ کے معاملہ میں اس پر تیار رہے کہ جو بھی ملے گا وہ اس پر راضی ہو جائے گا۔

یہ دنیا کچھ اس طرح بنی ہے کہ یہاں عمل کرنا آدمی کے اپنے اختیار میں ہوتا ہے اور نتیجہ کا نکلنا دوسرے بہت سے عوامل کے اختیار میں۔ اس لیے اس دنیا میں حقیقت پسندانہ رویہ صرف وہی ہے جس کو قناعت کہا جاتا ہے۔ تاہم اس کا مطلب نتیجہ میں قناعت ہے نہ کہ کوشش میں قناعت۔ نتیجہ کے معاملہ میں قانع بن جانا حقیقت پسندی ہے۔ جب کہ عمل کے معاملہ میں قانع بننا خودکشی کے ہم معنی ہے۔

اس معاملہ میں صحیح رویہ کا ایک سادہ معیار ہے۔ وہ یہ کہ ذہنی سکون کو بھنگ کیے بغیر کوشش کو جاری رکھا جائے۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ اپنی صلاحیت اور اپنے مواقع کے اعتبار سے بھر پور عمل

‹ Previous page Next page › Contents of January 1995 All issues

Printed page