ہندوستانی قومیت
الرسالہ، فروری ۱۹۹۵، صفحہ ۱۹
ہندوستانی قومیت
ہندوستانی قومیت کی تشکیل کس طرح ہوتی ہے ۔ (what constitutes Indian nationalism) یہ اس وقت ہماری گفتگو کا موضوع ہے۔ یہ سوال بلا شبہ نہایت اہم قومی سوال ہے۔ اس سوال کے حل پر ملک کی تعمیر و ترقی کا انحصار ہے۔ اس اعتبار سے اس سوال کو ۱۹۴۷ ہی میں آخری طور پر طے ہو جانا چاہیے تھا۔ مگر ہم دیکھتے ہیں کہ آج بھی اس سوال پر بحث جاری ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ تقریباً نصف صدی گزرنے پر بھی اس سوال کا متفق علیہ جواب معلوم نہ کیا جا سکا۔ اس غیر معمولی تاخیر کا سبب کیا ہے، میرے نزدیک اس کا بنیادی سبب ہے ـــ ایک چیز اور دوسری چیز کے فرق کو ملحوظ نہ رکھنا۔ سماجی زندگی میں ہمیشہ کچھ چیزیں نیشنل (مشترک) ہوتی ہیں، اور کچھ چیزیں پرائیویٹ (غیر مشترک) نیشنل حصہ میں یکسانیت مطلوب ہوتی ہے ، اور پرائیویٹ حصہ میں تعدد۔ نیشنل معاملات کو اگر ہر آدمی کے ذوق پر چھوڑ دیا جائے تو ملک تباہ ہو جائے گا۔ اسی طرح پرائیویٹ حصہ میں اگر تمام لوگوں کو ایک روش پر قائم کرنے کی کوشش کی جائے تو سارا سماج انتشار کا شکار ہو کر رہ جائے گا۔
اس مسئلہ کے الجھاؤ کے ذمہ دار مختلف فرقوں کے وہ پرجوش لوگ ہیں جو دونوں کو ایک دوسرے سے الگ نہ رکھ سکے۔ انھوں نے یہ غلطی کی کہ ایک نیشنل معاملہ کو پرائیویٹ بنانے کی کوشش کی، اور ایک معاملہ جو پرائیویٹ تھا اس کو نیشنل درجہ دینے پر اصرار کیا۔ اس قسم کی غیر فطری اور غیر حقیقت پسندانہ کوشش صرف انتشار پیدا کر سکتی تھی، اور اس نے صرف وہی پیدا کیا۔
مثال کے طور پر ہمارے جن لیڈروں نے "کامن سول کوڈ“ کی دفعہ دستور ہند میں شامل کی، انھوں نے ایک پرائیویٹ معاملہ کو نیشنل بنانے کی کوشش کی، کیوں کہ شادی بیاہ یا نکاح و طلاق کا معاملہ لوگوں کی پرائیویٹ زندگی سے تعلق رکھتا ہے۔ وہ ہر ایک کا انفرادی معاملہ ہے نہ کہ پورے ملک کا قومی معاملہ۔ اسی غلطی کا یہ نتیجہ ہے کہ اس دستوری دفعہ نے غیر ضروری بحث پیدا کرنے کے سوا اب تک کچھ اور نہیں کیا۔ اسی طرح کچھ مسلمان پاکستان کی جیت پر خوشی مناتے ہیں اور کہتے ہیں کہ پاکستان ایک مسلم ملک ہے، اس بنا پر یہ ہمارے لیے ایک جذباتی مسئلہ ہے۔ مگر یہ نیشنل معاملہ کو پرائیویٹ معاملہ بنانا
‹ Previous page Next page › Contents of February 1995 All issues