ہندوستانی قومیت
الرسالہ، فروری ۱۹۹۵، صفحہ ۲۰
ہے۔ انڈیا ہمارا وطن ہے۔ جب بھی انڈیا کا مقابلہ کسی دوسرے ملک سے ہوگا، خواہ وہ کرکٹ کے میدان میں ہو یا جنگ کے میدان میں، تو ہمارے جذبات لازمی طور پر اپنے وطن کے ساتھ ہوں گے۔ اس معاملے میں انفرادی روش ہرگز قابل برداشت نہیں ہو سکتی۔ نان کامن کو کامن بنانا جتنا غلط ہے اتنا ہی کامن کو نان کامن بنانا بھی غلط ہے۔
اس مسئلے کو سادہ اور فطری طور پر سمجھنے کی آسان صورت یہ ہے کہ اس کو خاندان کی سطح پر دیکھا جائے ۔ خاندان کسی قوم کی ابتدائی یونٹ ہوتا ہے ۔ بہت سے خاندان کے مجموعہ ہی کا نام نیشن ہے۔ اب دیکھئے کہ خاندان کی سطح پر اس مسئلے کی نوعیت کیا ہے۔ آپ جانتے ہیں کہ خاندان کی سطح پر ہمیشہ کچھ باتیں کامن انٹرسٹ کی ہوتی ہیں۔ ان میں ہر فیملی ممبر کی رائے صرف ایک ہوتی ہے۔ اور ان کے علاوہ کچھ چیزیں انفرادی ٹیسٹ کی ہوتی ہیں ۔ ان میں ہر فیملی ممبر کی سوچ الگ ہوتی ہے۔ کامن انٹرسٹ میں مثال کے طور پر ایک اہم چیز معاشی یا مالی انٹرسٹ ہے۔ وہ چیزیں جو فیملی کے معاشی انٹرسٹ سے تعلق رکھتی ہوں ان میں ہر ایک کی سوچ بالکل یکساں ہوتی ہے۔ ایسے معاملات میں فیملی کے تمام ممبر بلا اختلاف ایک ہی نقطہ نظر کو اپنائے ہوئے ہوتے ہیں۔ ایسے معاملات میں اگر کئی نقطہ نظر چلایا جائے تو خود فیملی کا وجود ہی خطرہ میں پڑ جائے گا۔
مگر جہاں تک انفرادی ٹیسٹ کا معاملہ ہے، تو یہاں ہر ایک کا کیس الگ الگ بن جاتا ہے۔ مثلاً کوئی ایک قسم کا کھانا پسند کرتا ہے اور کوئی دوسرے قسم کا کھانا۔ کوئی ویسٹرن لباس پہنتا ہے اور کوئی ایسٹرن لباس۔ کسی کو ادب سے لگاؤ ہوتا ہے اور کسی کو سائنس سے ۔ کوئی کٹر مذہبی ہوتا ہے اور کوئی مذہب کے معاملے میں لبرل ہوتا ہے۔ کسی کو ایک رنگ کا فرنیچر پسند ہوتا ہے اور کسی کو دوسرے رنگ کا فرنیچر۔ وغیرہ۔
اسی دوگانہ اصول پر تمام خاندانوں کا نظام چل رہا ہے۔ خواہ وہ ہندو خاندان ہو یا مسلم خاندان، یا اور کسی کمیونٹی سے تعلق رکھنے والا خاندان ۔ ہر ایک کے لیے فطرت کا یہی اصول ہے، اور دنیا میں ہر جگہ یہی اصول کارفرما ہے۔
نومبر 1991 میں شولاپور (مہاراشٹر) میں قومی ایکتا کے موضوع پر ایک سیمینار تھا۔ اس میں مجھے شریک ہونے کا اتفاق ہوا ۔ اس موقع پر مقامی ایم ایل اے شری تلسی داس جادھو نے بھی
‹ Previous page Next page › Contents of February 1995 All issues