ہندوستانی قومیت
الرسالہ، فروری ۱۹۹۵، صفحہ ۲۱
تقریر کی ۔ انھوں نے اپنی تقریر میں کہا کہ میں نے اپنے گھر میں دیکھا ہے کہ میرے باپ نان ویجیٹیرین تھے۔ میری ماں ہندکر قسم کی ویجیٹیرین تھی ۔ اس کے باوجود دونوں میں کبھی کوئی اختلاف نہیں ہوا۔ میں نے سالہا سال تک دیکھا ہے کہ میری ماں صبح اٹھ کر پہلے میرے باپ کے لیے میٹ بناتیں۔ اور اس کو کھانے کی میز پر رکھ دیتیں ۔ اس کے بعد وہ غسل خانہ میں جاکر نہاتیں اور پھر اپنے لیے دال سبزی والا کھانا بتائیں ۔
میری ماں اسی طرح آخر عمر تک کرتی رہیں۔ کھانے کے معاملہ میں دونوں کے درمیان اتنا بڑا فرق تھا۔ مگر اس سوال پر دونوں میں کبھی جھگڑا نہیں ہوا۔ دونوں زندگی بھر عزت اور محبت کے ساتھ مل کر رہتے رہے۔
یہی معاملہ ہر فیملی کا ہے ۔ ہر فیملی میں کچھ چیزیں مشترک ہوتی ہیں اور کچھ چیزیں غیر مشترک۔ مشترک حصہ سے مراد وہ چیزیں ہیں جو سب سے یکساں طور پر تعلق رکھتی ہیں۔ مثلاً خاندان کی عزت ، خاندان کا کاروبار، خاندان کی ترقی ، خاندان کا تحفظ ۔ یہ وہ چیزیں ہیں جو خاندان کے ہر فرد کا مشترک کنسرن ہوتی ہیں۔ ان چیزوں میں فیملی کے ایک فرد اور فیملی کے دوسرے فرد میں کوئی فرق نہیں ہوتا۔ خاندانی زندگی کا دوسرا حصہ وہ ہے جو غیر مشترک ہوتا ہے۔ اس میں ہر آدمی اپنے اپنے ذوق پر چلتا ہے۔ یہ غیر مشترک حصہ ہے ــــــــ کھانا پینا، لباس، تفریحات، شخصی عادتیں، وغیرہ۔ زندگی کا فطری اصول یہ ہے کہ مشترک امور میں تمام افراد کو ایک نقطہ نظر کا پابند کیا جائے۔ مگر غیر مشترک امور میں ہر ایک کو آزادی دیدی جائے کہ وہ اپنی ذاتی پسند سے جو روش چاہیں اختیار کریں۔ وحدت کے ساتھ تنوع ، اور تنوع کے ساتھ وحدت کے اسی اصول میں کسی سماج کی کامیابی کا راز چھپا ہوا ہے۔ خاندان ہی جیسا معاملہ بڑے پیمانے پر قوم کا بھی ہے۔ یہاں بھی ایک قومی انٹرسٹ ہے، اور دوسرا انفرادی انٹرسٹ۔ اگر ان دونوں کی علاحدہ علاحدہ رعایت کی جائے اور ان میں کنفیوز نہ کیا جائے تو نیشن کا معاملہ درست طور پر چلتا رہے گا۔ اور اگر دونوں کے فرق کو نظر انداز کر دیا جائے اور غیر ضروری طور پر نظریاتی رولر چلا کر دونوں کو ایک کرنے کی کوشش کی جائے تو اس کے بعد یہ مسئلہ سادہ طور پر ایک سماجی مسئلہ نہیں رہتا، بلکہ وہ ایسے میدانِ جنگ کا مسئلہ بن جاتا ہے جو کبھی حل نہ ہو سکے۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 1995 All issues