Your freedom ends where my nose begins.
الرسالہ، فروری ۱۹۹۵، صفحہ ۲۲
خاندان رشتہ داری کی بنیاد پر بنتا ہے اور قوم وطن کی بنیاد پر بنتی ہے۔ قومیت کا سادہ اصول یہ ہے کہ ایک زمینی خطہ میں جو لوگ رہتے ہیں وہ سب ایک قوم ہیں۔ مثلاً انڈیا میں جو ہندو، مسلمان، سکھ، عیسائی، پارسی، رہتے ہیں وہ سب کے سب ایک قوم ہیں۔ خواہ اس واحد قوم کو ہندوستانی کہا جائے یا اس کو انڈین یا بھارتی کا نام دیا جائے۔
ہندوستانی قومیت کے اس انسانی مجموعہ میں ایک چیز کا من ہے، اور اسی کے ساتھ کچھ چیزیں ایسی ہیں جو انفرادی حیثیت رکھتی ہیں۔ وہ چیزیں جن کا تعلق انڈیا کی انٹیگریٹی یا اس کے مجموعی مادی انٹرسٹ سے ہو، اس میں اس خطہ ارض میں بسنے والے ہر آدمی کا نقطہ نظر ایک ہوگا۔ مثلاً کشمیر کا مسئلہ کسی مسلمان کے لیے مسلم مسئلہ نہیں ہوگا بلکہ وہ اس کے لیے صرف انڈین مسئلہ ہوگا۔ اسی طرح پنجاب کا مسئلہ کسی سکھ کے لیے سکھ مسئلہ نہیں ہوگا بلکہ وہ اس کے لیے انڈین مسئلہ ہوگا۔ اسی طرح آسام کا مسئلہ کسی کرسچین کے لیے کرسچین مسئلہ نہیں ہوگا بلکہ وہ اس کے لیے انڈین مسئلہ ہوگا۔ اسی طرح وہ تمام مسائل جن سے ملک کا مجموعی سیاسی، معاشی، جغرافی انٹرسٹ وابستہ ہو، ان میں کسی بھی فرد یا کمیونٹی کی سوچ علیحدہ نہیں ہوگی۔ مگر اس مشترک نیشنل انٹرسٹ کے باہر بہت سی چیزیں ہیں جن کا تعلق انفرادی ذوق سے ہے۔ ان دوسرے پہلوؤں میں ہر ایک کو اپنے نجی دائرہ میں آزادی حاصل ہوگی۔ مثلاً مذہب، خوراک، لباس، زبان، رہن سہن، شادی بیاہ، جیسے معاملات میں ہر ایک کو اپنے محدود دائرہ میں آزادی ہوگی کہ وہ اپنی انفرادی پسند کے مطابق جو انداز چاہے اس کو اختیار کرے۔ یہی طریقہ آج تمام ترقی یافتہ ملکوں میں رائج ہے۔
اس انفرادی آزادی پر اگر کوئی شرط لگائی جاسکتی ہے تو وہ صرف یہ کہ کسی کو اپنی آزادی اس حد تک نہیں بڑھانا چاہیے کہ وہ دوسرے کی آزادی میں خلل اندازی کا سبب بن جائے۔ اس معاملہ میں وہی اصول صادق آتا ہے جو ایک امریکی شہری نے راستہ پر چلنے والے اپنے ایک ہم وطن سے اس وقت کہا تھا جب کہ اس نے اپنی آزادی کا غلط استعمال کرتے ہوئے اپنا ہاتھ اس کی ناک پر مار دیا تھا۔ اس نے کہا کہ یہ صحیح ہے کہ تم کو آزادی حاصل ہے۔ مگر تمہاری آزادی وہاں ختم ہو جاتی ہے جہاں سے میری ناک شروع ہوتی ہے :
Your freedom ends where my nose begins.
‹ Previous page Next page › Contents of February 1995 All issues