Al-Risala · February 1995 · page 23

Your freedom ends where my nose begins.

الرسالہ، فروری ۱۹۹۵، صفحہ ۲۳

اس معاملے کی وضاحت کے لیے میں ایک ذاتی مثال دوں گا۔ ۱۹۷۱ء کے آغاز میں میں پاکستان لا ہور فیصل آباد گیا۔ یہ سفر میں نے بذریعہ ٹرین کیا تھا۔ ہندوستانی سرحد پار کرنے کے بعد جب میں پاکستان کی سرزمین میں داخل ہوا تو ایک فوجی افسر مجھے اپنے خیمہ کے اندر لے گیا۔ یہ وقت وہ تھا جبکہ بنگلہ دیش کے مسئلے کی وجہ سے انڈیا اور پاکستان میں سخت تناؤ پیدا ہو گیا تھا۔ اس بند خیمہ میں پاکستانی فوج کے افسر نے مجھ سے ایسی گفتگو شروع کی جو میرے نزدیک ۔ انڈیا کے نیشنل انٹرسٹ کے خلاف تھی۔ کچھ دیر تک میں برداشت کرتے ہوئے اس کی باتیں سنتا رہا۔ پھر میں نے غضب ناک لہجے میں کہا: "جناب ، آپ مجھ سے یہ سمجھ کر بات کریں کہ میں انڈیا کا ایک لائل سیٹیزن ہوں " اس کے بعد میں نے تقریبا پندرہ منٹ تک نہایت سخت انداز میں اس کے سامنے تقریر کی۔ میں جانتا تھا کہ اس وقت اگر وہ مجھے گولی مار دے تو یہاں مجھے کوئی بچانے والا نہ ہوگا۔ مگر صورت حال کی نزاکت کی پروا کیے بغیر میں نے اس سے وہ سب کچھ کہہ ڈالا جو ایک ہندوستانی شہری کی حیثیت سے میں کہہ سکتا تھا۔ اور پھر معذرت کیے بغیر خیمہ سے باہر نکل آیا۔ جس وقت میں نے پاکستان کے فوجی افسر سے یہ باتیں کہیں اس وقت میرا مذہب، میرا لباس، میری بولی، میری خاندانی روایات ، سب کچھ ایک عام ہندو سے مختلف تھیں۔ مگر قومی احساس کے اعتبار سے اس وقت میرا احساس عین وہی تھا جو ایک دلیش بھگت ہندو کا احساس ہو سکتا ہے۔ تنوع کے ساتھ اتحاد (unity in diversity) کا یہی اصول میرے نزدیک انڈین نیشنلزم کی اصل بنیاد ہے۔ شخصی نوعیت کے محدود امور میں، ہم ایک دوسرے سے مختلف ہوں گے مگر قومی اعتبار سے ہم سب کا اجتماعی تصور ایک ہوگا۔ یہی ممکن بھی ہے اور یہی عقل کے مطابق بھی۔ خلاصہ یہ کہ ہمالیہ پہاڑ اور بحر ہند کے درمیان واقع زمینی خطہ جس کو ہمارے دستور نے "انڈیا" کے طور پر ڈیفائن کیا ہے، اس میں بسنے والا ہر آدمی انڈین ہے۔ یہ سب کے سب لوگ ایک قوم ہیں۔ سب کے لیے ضروری ہے کہ وہ ایک ہی قومی سوچ کو اپنی شناخت بنائیں اور باہم مل جل کر زندگی گزاریں ۔ مگر اس وسیع قومی مجموعہ کے اندر جو افراد آباد ہیں، اپنے نجی دائرہ میں ان کا طرز زندگی (mode of life) یکساں نہیں ہو سکتا۔ اور نہ کسی بھی ملک میں وہ یکساں ہے۔ پہلے دائرہ کے لیے فطرت کا تقاضا ہے کہ سب کا طرز فکر ایک ہو۔ مگر عین اسی فطرت کا یہ تقاضا بھی ہے کہ نجی دائرہ میں ان

‹ Previous page Next page › Contents of February 1995 All issues

Printed page