فرحت در راحت و عشرت، ہمہ فرماں بردار
الرسالہ، فروری ۱۹۹۵، صفحہ ۴۳
دولة في العالم دنیا سے سب سے اچھے ملک سے، مراکشی عالم نے دوبارہ پوچھا کہ سعودیہ کے کس شہر سے۔ مصری عالم نے جواب دیا : من احسن دولة في العالم وهي مصر ومن احسن مدينة في العالم وهي القاهرة ر دنیا کے سب سے اچھے ملک مصر سے اور دنیا کے سب سے اچھے شہر قاہرہ سے، مراکشی عالم اس جواب پر غصہ ہو گئے اور کہا کہ تمہارے ملک کے بارہ میں اللہ نے فرمایا ہے سأوريكم دار الفاسقين ۔ میں بہت جلد تم کو فاسقوں کا گھر دکھاؤں گا ، یعنی مصر۔ مصری عالم غصہ میں آ کر کھڑے ہو گئے اور مراکشی عالم کی داڑھی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اسے حمار کہہ کر چپ ہو گئے۔ (البلاغ بمبئی، جنوری ۱۹۹۴ صفحه ۲۵)
اس واقعہ میں مصری عالم کی غلطی اگر بے جا فخر ہے تو مراکشی عالم کی غلطی یہ ہے کہ ایک واقعہ جو اعراض کے حکم کے تحت آتا تھا اس کو انہوں نے نہی عن المنکر کے حکم کے متعلق سمجھ لیا۔ ۱۳ فروری کو مصر وغیرہ کے کچھ نوجوان یہاں میری آمد کی خبر سن کر آ گئے۔ آج کا بیشتر وقت ان سے گفتگو میں گزرا۔ مختلف مقامات پر آجکل کچھ مسلم جماعتیں "مسلح انقلاب" کی کوشش کر رہی ہیں۔ وہ قائم شدہ حکومتوں سے مسلح ٹکر اؤ چھیڑے ہوئے ہیں۔ ان کے بارہ میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے میں نے کہا کہ یہ سب اسلام کے نام پر غیر اسلام ہے۔ کیوں کہ اسلام میں قائم شدہ حکومت کے خلاف خروج کو حرام قرار دیا گیا ہے۔ (شرح نووی ۱۲/ ۲۲۹)
اس کی وضاحت کرتے ہوئے میں نے کہا کہ کسی قائم شدہ حکومتی نظام کو توڑ نا محض کسی شخص یا گروہ کی کوشش سے نہیں ہو سکتا۔ اس کے لئے ہمیشہ تاریخ کی مساعدت در کار ہوتی ہے۔ اگر تاریخی تبدیلیاں مساعدت کے لئے موجود نہ ہوں تو ایسی ہر تحریک فساد اور خوں ریزی پر منتج ہوتی ہے اہل اسلام کو چاہئے کہ وہ اپنے عمل کو صرف پر امن دعوتی جد و جہد تک محدود رکھیں ۔ یہاں تک کہ وہ ضروری تاریخی امکانات پیدا ہو جائیں جن کو استعمال کر کے سیاسی انقلاب کے مرحلہ تک پہنچنا ممکن ہو جائے۔
رباط پہنچنے کے بعد کل شام کو میں نے اپنے دہلی کے دفتر کو ایک فیکس روانہ کیا تھا۔ آج وہاں سے اس کا جواب آ گیا۔ اس کو دیکھ کر میری زبان سے شکر کا کلمہ نکلا۔ میں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو کیسے کیسے وسائل دے دئے ہیں۔ یہ سن کر ایک عرب نوجوان نے
‹ Previous page Next page › Contents of February 1995 All issues