Al-Risala · February 1995 · page 44

فرحت در راحت و عشرت، ہمہ فرماں بردار

الرسالہ، فروری ۱۹۹۵، صفحہ ۴۴

کہا کہ آپ ان چیزوں پر شکر ادا کر رہے ہیں ، حالاں کہ میں نے ایک بڑے شیخ ذرائع کو ان کی مذمت کرتے ہوئے سنا۔ انھوں نے کہا کہ موجودہ زمانہ میں ان ذرائع مواصلات کے ذریعہ شیطانی باتیں ہر جگہ تیزی سے پہنچائی جا رہی ہیں۔ یہ جدید آلات سب شیطان کے کام ہیں اور ہمیں ان سے جنگ کرنا چاہئے؛

الكلمات الشيطانية في هذه الأيام تُرسل عن طريق الاتصالات الحديثة ومنها الفاكس، إلى كل مكان بسرعة ، فهذه الأجهزة المنظورة كلها عمل شيطاني يجب علينا محاربتها. میں نے کہا کہ شیخ نے بڑی عجیب بات کہی۔ یہ جدید ذرائع تو امکانات فطرت کا استعمال ہیں، جو چیز بری ہے وہ استعمال ہے نہ کہ خود ذرائع۔ اور برا استعمال تو لوگ مذہب تک کا کرتے ہیں۔ اس لئے ہمیں برے استعمال کی مذمت کرنا چاہئے نہ کہ خود ان اشیاء کی۔

رباط میں لیبیا کے ایک صاحب (شیخ صالح) سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے بتایا کہ لیبیا میں ۱۹۷۰ میں جب انقلاب آیا تو اس کے لیڈر سوشلسٹ افکار سے متاثر تھے۔ انھوں نے ملک میں جو تبدیلیاں کیں ان میں سے ایک یہ تھا کہ انھوں نے اعلان کیا کہ گھر اس کا ہے جو گھر میں رہے۔ ہر طرف دیواروں پر لکھ دیا گیا: البيت لساكنه۔ مگر لیبیا میں بہت ہی کم ایسے افراد تھے جنھوں نے اس سے فائدہ اٹھایا۔ بیشتر لوگوں نے اس قانون کو استعمال کرنے سے انکار کر دیا۔ چنانچہ کرایہ دار بدستور کرایہ دیتے رہے۔ مکانوں کی خرید و فروخت پہلے ہی کی طرح جاری رہی۔ تھوڑے سے افراد جنھوں نے اس حکومتی اعلان کا فائدہ اٹھایا وہ معاشرہ میں سخت معیوب نظروں سے دیکھے جانے لگے۔ ان کو اپنی جائداد کے لئے خریدار یا کرایہ دار ملنا سخت مشکل ہو گیا۔ شیخ صالح نے بتایا کہ میں نے خود اپنے لئے ایک مکان خریدا ہے۔ مجھے مذکورہ قسم کا مغصوبہ مکان کم قیمت پر مل رہا تھا۔ مگر میں نے اس کو نہیں لیا۔ اس کے بجائے جائز ملکیت والا مکان اپنے لئے خریدا۔

یہ نہایت عجیب ہے۔ ہندوستان میں ہم نے دیکھا ہے کہ آزادی کے بعد خاتمہ زمینداری کا قانون منظور کیا گیا۔ اور حکومت نے اعلان کیا کہ جو جوتے اس کا کھیت اس کا نتیجہ ہوا کہ تمام کسان اپنے زیر

‹ Previous page Next page › Contents of February 1995 All issues

Printed page