Al-Risala · February 1995 · page 46

فرحت در راحت و عشرت، ہمہ فرماں بردار

الرسالہ، فروری ۱۹۹۵، صفحہ ۴۶

تھا۔ اس کا نام (Moslemische Revue) ہے۔ اس کا تازہ شمارہ انھوں نے مجھ کو دکھایا۔ وہ اس کے ایڈیٹوریل بورڈ میں بھی ہیں۔ جرمنی میں ترکی وغیرہ کے مسلمانوں سے ان کا ملنا جلنا ہوتا تھا۔ اس کے دوران وہ اسلام سے متاثر ہوئے اور اسلام میں داخل ہو گئے۔ وہ ایک کمپیوٹر فیکٹری میں کام کرتے ہیں۔

جب میں نے بتایا کہ میں انڈیا سے آیا ہوں تو انھوں نے کہا کہ میں نے سنا ہے کہ ہندوؤں نے ایک قدیم مسجد کو ڈھادیا۔ اب وہاں کیا حال ہے۔ انڈیا میں باہر کے لوگ صرف اتنا ہی جانتے ہیں کہ وہاں بابری مسجد ڈھائی گئی ہے۔ اس کے سوا یہاں بے شمار تعمیری واقعات بھی ہیں مگر لوگوں کو اس کی خبر نہیں۔

۵ فروری کو بادل ہٹ گئے اور دوبارہ آسمان صاف ہو گیا۔ یہاں کا موسم اہل یورپ کے لئے بہت پسندیدہ موسم ہے۔ چنانچہ یورپی سیاح کثرت سے مرا کو آتے ہیں۔ یہاں کی آمدنی کا قابل لحاظ حصہ سیاحت انڈسٹری کے ذریعہ حاصل ہوتا ہے۔ اس کی وجہ سے آزادی کے بعد بھی یہاں کے کلچر پر یورپی سیاحوں کا بہت زیادہ اثر ہے۔ بلکہ یہاں کے کلچر کو اگر سیاح کلچر کہا جائے تو شاید غلط نہ ہوگا۔

ایک حادثہ پیش آیا۔ میں اپنے کمرہ سے باہر نکلا۔ کنجی اندر تھی۔ دروازہ اپنے آپ بند ہو گیا۔ اب میں دروازہ کو کھول نہیں سکتا تھا۔ اس کے بعد میں ریسپشن کے ڈسک پر گیا۔ ان کو اپنے مسئلہ کی بابت بتایا۔ ان کا ایک آدمی فوراً ایک خاص کنجی لے کر آیا۔ یہ ماسٹر کی تھی جس سے ہوٹل کے تمام تالے کھولے جاسکتے ہیں۔ اس نے ماسٹر کی کے ذریعہ فوراً تالا کھول دیا۔ اب میں کمرہ کے اندر تھا۔ میں نے سوچا کہ یہی معاملہ زیادہ بڑے پیمانے پر زندگی کا بھی ہے۔ زندگی میں ایک قسم کی کنجیاں وہ ہیں جن سے صرف ایک مسئلہ حل کیا جاسکتا ہے۔ ایک کنجی صرف ایک تالے کو کھولتی ہے۔ دوسری کنجی ماسٹر کنجی ہے۔ اس کنجی کے استعمال سے تمام تالے کھولے جاسکتے ہیں۔ یہ ماسٹر کی اہل اسلام کے لئے دعوت ہے۔ اہل اسلام کے لئے بلاشبہ دعوت الی اللہ وہ ماسٹر کی ہے جس کو استعمال کیا جائے تو وہ تنہا تمام بند تالوں کو کھولنے کے لئے کافی ہے۔ تاہم دعوت کی ماسٹر کی کو استعمال کرنے کی لازمی شرط مدعو کی زیادتیوں پر صبر ہے۔ مسلمان اگر صبر کی قیمت ادا نہ کریں تو وہ دعوت کی ماسٹر کی

‹ Previous page Next page › Contents of February 1995 All issues

Printed page