ایک گواہی
الرسالہ، مارچ ۱۹۹۶، صفحہ ۴۵
ہے کہ وہ اپنی پوری توجہ کو استعمال کرتے ہوئے اس کو بخوبی طور پر منظم کرے۔ یہ تقسیم ایک اعتبار سے آزادانہ حیثیت رکھتی ہے۔ اور دوسرے اعتبار سے اس کی حیثیت دندانہ دار پہیہ (cog wheel) جیسی ہے۔ دندانہ دار پہیہ میں ہر پہیہ کی اپنی الگ شخصیت ہوتی ہے۔ اس کے باوجود دونوں پوری طرح ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہوتے ہیں۔ ایک کا عمل دوسرے سے بندھا ہوا ہوتا ہے۔ ان کی درست کارکردگی کا انحصار اس پر ہوتا ہے کہ دونوں پوری طرح ایک دوسرے کا ساتھ دے رہے ہوں۔
عورت کو اپنے نقشہ حیات میں اسی احساس کے ساتھ رہنا ہے۔ اس کو یہ سمجھنا ہے کہ وہ دندانہ دار پہیہ کے دو برابر کے پرزوں میں سے ایک پرزہ ہے۔ اس کے مل کر چلنے سے پورا پہیہ چلے گا، اور اس کے نہ چلنے سے پورا پہیہ رک جائے گا اور اسی کے ساتھ زندگی کا پورا نظام بھی۔ تقسیم کار کے معاملہ کا تعلق صرف عورت اور مرد سے نہیں ہے۔ وہ ایک عام اصول ہے جس پر فطرت کا پورا نظام قائم ہے۔
آپ ایک بزنس ہاؤس قائم کریں جہاں بہت سے لوگ کام کر رہے ہوں ۔ آپ کو یہ کرنا ہوگا کہ کچھ لوگوں کو آفس میں بٹھائیں اور کچھ لوگوں کو فیلڈ میں متحرک کریں۔ یہ تقسیم ہر کاروبار کو کامیابی کے ساتھ چلانے کے لیے ضروری ہے۔ کسی کاروبار یا کسی آرگنائزیشن کے کارکن اگر اس تقسیم عمل پر راضی نہ ہوں تو ایسے کاروبار یا آرگنائزیشن کا ناکام ہو جانا یقینی ہے۔ یہی معاملہ کاروبار حیات کا ہے۔ زندگی کے لیے خدا نے یہ طریقہ بنایا ہے کہ عورت اور مرد دونوں مل کر اسے چلائیں۔ پھر ان دونوں کے لیے بنیادی دائرہ کار مقرر کر دیا ہے اور ہر ایک کے اندر مخصوص طور پر وہی صلاحیتیں رکھ دی ہیں جو اس کو اپنے دائرہ کے کام کو بخوبی طور پر انجام دینے کے لیے ضروری ہیں۔
اب عقل اور شریعت دونوں کا تقاضا ہے کہ ہر جنس اپنے اپنے دائرہ عمل پر راضی رہ کر اپنے حصہ کا کام پوری توجہ کے ساتھ انجام دے۔ نہ مردعورت بننے کی کوشش کرے اور نہ عورت مرد کی نقل کرے ۔ جو عورت اور مرد خدا کے اس بندوبست پر راضی ہوں وہ خدا کی مدد سے دنیا میں بھی کامیاب ہوں گے اور آخرت میں بھی کامیاب۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 1996 All issues