Al-Risala · March 1996 · page 46

تین مرحلے

الرسالہ، مارچ ۱۹۹۶، صفحہ ۴۶

تین مرحلے

ایک عورت کو اپنی زندگی میں تین بڑے مرحلوں سے گزرنا پڑتا ہے۔ سب سے پہلے وہ اپنے والدین کے ساتھ ایک لڑکی کی صورت میں اپنے صبح و شام بسر کرتی ہے۔ اس کے بعد اس کا نکاح ہوتا ہے اور وہ بیوی کی حیثیت سے اپنے شوہر کے گھر منتقل ہوتی ہے۔ اس کے بعد اس کے یہاں بچے پیدا ہوتے ہیں اور اس کی حیثیت ماں کی بن جاتی ہے۔

یہ تینوں مرحلے تقریباً ہر عورت کے ساتھ پیش آتے ہیں۔ ان میں سے ہر ایک کے تقاضے الگ الگ ہیں اور ہر دور میں عورت کو اس کے لحاظ سے اپنی ذمہ داریوں کو ادا کرنا ہے تا کہ اس کی ترقی جاری رہے اور وہ آخری کامیابی کی منزل تک پہنچ سکے۔ ان تینوں مرحلوں میں عورت کو جو کام کرنا ہے اس کو تین عنوانات کے تحت بیان کیا جا سکتا ہے __ تعلیم ، خانہ آبادی، تربیت نسل۔ پہلے مرحلہ میں جب کہ عورت کی حیثیت ایک لڑکی کی ہوتی ہے، اس کی سب سے بڑی ذمہ داری تعلیم کا حصول ہے۔ زندگی کا یہی وہ تعمیری دور ہے جس کے بارہ میں کہا گیا ہے کہ علم کا حصول ہر مومن مرد اور ہر مومن عورت پر فرض ہے (طلب العلم فريضة على كل مومن ومؤمنة ) تعلیم زندگی کی تعمیر ہے۔ تعلیم ہی کے ذریعہ انسان حقیقی معنوں میں انسان بنتا ہے تعلیم ہی کے ذریعہ ذہن اس ارتقائی حالت تک پہنچتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو اور دوسروں کو سمجھے۔ وہ دنیا اور آخرت سے سچی واقفیت حاصل کرے ۔ وہ مراحل حیات میں کھلی آنکھ اور کھلے ذہن کے ساتھ داخل ہو اور صحیح طور پر اپنی ذمہ داریوں کو ادا کر سکے ۔

ایک عورت جب ماں کے پیٹ سے پیدا ہوتی ہے تو اس کی حیثیت ایک خام مادہ کی ہوتی ہے ۔ اس کے اندر تمام فطری صلاحیتیں موجود ہوتی ہیں مگر یہ صلاحیتیں خام حالت میں ہوتی ہیں۔ ان صلاحیتوں کو جلا دینے کا کام تعلیم کے ذریعہ انجام پاتا ہے۔ تعلیم گویا لوہے کو اسٹیل بناتی ہے ، وہ فطری امکانات کو واقعہ کے روپ میں تشکیل دیتی ہے۔

تعلیم عورت کی شخصیت کو مکمل کرتی ہے۔ ہر عورت کے لیے ضروری ہے کہ وہ تعلیم حاصل کرے، عورت جتنی زیادہ صاحب علم ہوگی اتناہی زیادہ وہ اس دنیا میں اپنی ذمہ داریوں کو ادا کر سکے گی۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 1996 All issues

Printed page