سکون کا راز
الرسالہ، اپریل ۱۹۹۶، صفحہ ۹
سکون کا راز
عن ابی ھریرۃ، قال رسول اللہ صلی اللہ حضرت ابو ہریرہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم : انظروا الى من اسفل علیہ وسلم نے فرمایا۔ تم اس کو دیکھو جو تمہارے نیچے منکم، ولا تنظروا الى من هو فوقکم ہے اور اس کو نہ دیکھو جو تمہارے اوپر ہے۔ فھو اجدر ان لا تزدروا نعمۃ اللہ کیوں کہ اس رویہ سے اس بات کی زیادہ توقع علیکم (صحیح مسلم بشرح النووی (۹۰/۱۸) ۔ ہے کہ تم اپنے اوپر خدا کی نعمتوں کو حقیر نہ سمجھو۔ یہ زندگی کا ایک نہایت قیمتی اصول ہے۔ موجودہ دنیا میں خود فطرت کے نظام کے تحت ایسا ہے کہ کسی کے پاس کم سامان ہوتا ہے اور کسی کے پاس زیادہ سامان۔ فرق کی یہ صورت حال کبھی ختم ہونے والی نہیں۔ ایسی حالت میں پرسکون زندگی حاصل کرنے کا راز صرف ایک ہے۔ وہ یہ کہ آدمی اپنے اور دوسروں کے درمیان غلط تقابل نہ کرے۔
اگر وہ اپنے سے اوپر والوں کو دیکھے گا تو اس کے اندر حسد اور بے چینی پیدا ہوگی۔ وہ سکون قلب سے محروم ہو جائے گا۔ اس کے برعکس اگر وہ اپنے سے نیچے والوں کو دیکھے تو اس کے اندر شکر کا جذبہ پیدا ہو گا اور اسی کے ساتھ اس کو روحانی سکون بھی حاصل ہوگا۔ اس کا دن چین کے ساتھ گزرے گا اور رات کے وقت اس کو اچھی نیند کی نعمت حاصل ہوگی۔ اس بات کو مشہور انگریز افسانہ نگار شیکسپیر (۱۶۱۶-۱۵۶۴) نے اپنے لفظوں میں اس طرح کہا ہے کہ یہ دراصل تقابل ہے جس کی وجہ سے لوگ پریشان رہتے ہیں : It is by comparison that you suffer. ایک انسان اور دوسرے انسان کے درمیان فرق کا یہ نظام خود فطرت کا بنایا ہوا ہے۔ اس میں گہری مصلحت ہے۔ اس کی وجہ سے لوگوں کے درمیان چیلنج کی صورت حال قائم رہتی ہے۔ یہی چیلنج تمام ترقیوں کا زینہ ہے۔ انسانی سماج میں اگر چیلنج ختم ہو جائے تو اس کی ترقیاتی سرگرمیاں بھی ختم ہو جائیں گی۔ آدمی کو چاہیے کہ جب وہ اپنے سے کم والے کو دیکھے تو شکر ادا کرے ۔ اور جب اپنے سے اوپر والے کو دیکھے تو مسابقت کے جذبہ کے تحت آگے بڑھنے کی کوشش کرے ۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 1996 All issues