وقت اتحاد
الرسالہ، اپریل ۱۹۹۶، صفحہ ۱۹
اسی تکرار میں چار یا پانچ دن گزر گئے۔ آخر ان کو ہوش آیا۔ سب کے سب مسجد کے اندر اکٹھا ہوئے۔ انھوں نے آپس میں مشورہ کیا اور انصاف پر راضی ہوگئے (ثم انهم اجتمعوا في المسجد و تشاوروا و تناصفوا صفحه ۲۱۳ )
ابوامیہ بن المغیرہ اس وقت قریش میں سب سے زیادہ سن رسیدہ تھا۔ اس نے کہا کہ اے قریش کے لوگو، تم لوگ اپنے اختلاف کا فیصلہ اس طرح کرو کہ کل صبح کو جو پہلا آدمی مسجد کے دروازہ سے داخل ہو اس سے اپنے معاملہ کا فیصلہ کرالو۔ سب نے یہ رائے مان لی۔ اگلے دن جو شخص سب سے پہلے مسجد میں داخل ہوا وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم تھے۔ لوگوں نے جب آپ کو دیکھا تو کہا کہ یہ تو الامین ہیں۔ ہم ان پر راضی ہیں، یہ تو محمد ہیں (هذا الامین، رضينا، هذا محمد) ، اس کے بعد لوگوں نے اپنا مسئلہ آپ کے سامنے رکھا۔ آپ نے فرمایا کہ تم ایک کپڑا لاؤ۔ چنانچہ کپڑا لا کر آپ کو دیا گیا۔ آپ نے کپڑے کو زمین پر پھیلایا اور پھر حجر اسود کو اٹھا کر اس کپڑے پر رکھ دیا۔ آپ نے کہا کہ اب ہر قبیلہ اس کا ایک ایک کو نا پکڑلے پھر سب مل کر ایک ساتھ اس کو اٹھائیں۔
انھوں نے ایسا ہی کیا یہاں تک کہ جب وہ اس کو لے کر اصل مقام پر پہنچے تو آپ نے اپنے ہاتھ سے حجر اسود کو اٹھایا اور اس کو کعبہ کی دیوار میں وہاں رکھ دیا جہاں اس کو نصب کرنا تھا۔ اس کے بعد کعبہ کی تعمیر مکمل کی گئی۔ اختلاف اور لڑائی کا معاملہ پر امن طور پر حل ہو گیا۔ اس واقعہ سے اتحاد کے دو اصول ملتے ہیں۔ ایک یہ کہ قائد جو مرکز اتحاد کے طور پر کام کرے ، اس کو اخلاقی اعتبار سے لوگوں کا معتمد علیہ ہونا چاہئے۔ لوگ اس کو سچے اور امانت دار کی نگاہ سے دیکھیں۔ لوگ اس کو اپنے سے کچھ اوپر محسوس کریں۔ جب تک ایسا ایک شخص درمیان میں نہ ہو، لوگوں کے درمیان اتحاد قائم نہیں ہو سکتا۔
دوسری بات یہ کہ قائد اتحاد دوسروں کا لحاظ کرنے والا ہو۔ ثمرہ اتحاد میں وہ تمام لوگوں کو حصہ دار بنائے ۔ اتحاد ی عمل میں وہ ہر ایک کو شریک کرے۔ کامیاب قائد دوسروں کے درمیان انہی کی طرح رہتا ہے۔ وہ ہر ایک کے ساتھ تواضع کا سلوک کرتا ہے۔ اس کے دل میں ہر ایک کے لئے خیر خواہی ہوتی ہے۔ وہ قائد ہو کر بھی اپنے آپ کو دوسروں کے برابر رکھتا ہے۔ یہی سچا قائد ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 1996 All issues