جب زوال آتا ہے
الرسالہ، اپریل ۱۹۹۶، صفحہ ۲۰
جب زوال آتا ہے
قرآن میں مسلمانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ کیا ایمان والوں کے لئے وہ وقت نہیں آیا کہ ان کے دل اللہ کی نصیحت کے آگے جھک جائیں۔ اور اس حق کے آگے جو نازل ہو چکا ہے۔ اور وہ ان لوگوں کی طرح نہ ہو جائیں جن کو پہلے کتاب دی گئی تھی، پھر ان پر لمبی مدت گزر گئی تو ان کے دل سخت ہو گئے اور ان میں سے اکثر نافرمان ہیں (الحدید ۱۶) امت پر جب وہ لمحہ آتا ہے کہ طول آمد کے نتیجہ میں اس کے افراد کے اندر قساوت اور بے حسی پیدا ہو جائے، تو اس وقت ایسا نہیں ہوتا کہ دین کا نام ونشان بالکل مٹ گیا ہو۔ اس وقت جو خرابی پیش آتی ہے وہ یہ کہ دین کے ظواہر تو باقی رہیں مگر دین کی روح کا خاتمہ ہو جائے۔ جب یہ حالت آتی ہے تو لوگوں کے درمیان دین کی دھوم خوب دکھائی دیتی ہے، مگر دین کی اندرونی اسپرٹ کہیں موجود نہیں ہوتی۔ پھل کا چھلکا باقی رہتا ہے مگر اس کا مغز باقی نہیں رہتا۔ حدیث میں اس حالت کے بارہ میں یہ الفاظ آئے ہیں کہ بل انتم غثاء (بلکہ تم جھاگ کی مانند ہوگے، سیلاب کا جھاگ بظاہر بہت نمایاں ہوتا ہے، مگر اس کے اندر سیلاب والی طاقت موجود نہیں ہوتی۔
جب کوئی گروہ اس نوبت کو پہنچتا ہے تو اس کے افراد میں ایمان بس تلفظِ کلمہ کی سطح پر ہوتا ہے، مگر معرفت کی سطح پر وہ کلمہ کی حقیقت سے خالی ہوتے ہیں۔ ان کے یہاں ذکر کی تکرار تو ہوتی ہے مگر خدا کی سچی یاد ان کے یہاں نہیں پائی جاتی۔ وہ قرآن کو تلاوت کی کتاب کی حیثیت سے تو جانتے ہیں مگر وہ اس قرآن سے بے خبر ہوتے ہیں جو دلوں کو تڑپائے اور آنکھوں کو اشک بار کر دے۔ وہ انسانوں کی بڑائی میں گم ہوتے ہیں مگر خدا کی بڑائی میں جینا انھیں نصیب نہیں ہوتا۔ وہ اپنے نعروں کے ذریعہ فضا کو مرتعش کر دیتے ہیں مگر وہ اس تقویٰ سے نا آشنا ہوتے ہیں جو ان کے جسم کے رونگٹے کھڑے کر دے۔ جذباتی تقریریں سن کر مجمع عام میں انھیں روتے دیکھا جا سکتا ہے مگر وہ اس گر یہ کو نہیں جانتے جس کے بارہ میں حدیث میں یہ الفاظ آئے ہیں کہ : رجل ذكر الله خالياً ففاضت عيناه (آدمی نے تنہائی میں اللہ کو یاد کیا اور اس کی آنکھیں بہہ پڑیں )
‹ Previous page Next page › Contents of April 1996 All issues