جب زوال آتا ہے
الرسالہ، اپریل ۱۹۹۶، صفحہ ۲۱
ایسے لوگ اسلامی قانون نافذ کرنے کے ہنگامے برپا کرتے ہیں مگر ان کا سینہ خضوع اور تواضع کی کیفیت سے خالی ہوتا ہے۔ وہ دعوت کے نام پر سرگرمیاں دکھاتے ہیں مگر انسانوں سے محبت کرنا کیا ہے، اس کو وہ نہیں جانتے۔ وہ قوموں کے خلاف جہاد چھیڑتے ہیں مگر قوموں کے لئے شفقت سے ان کا اندرون بالکل خالی ہوتا ہے۔ وہ اسلام کے نام پر گن کچر کو فروغ دیتے ہیں ، حالاں کہ اسلام کا تقاضا یہ ہے کہ لوگوں کے درمیان رحمت کچر کو فروغ دیا جائے۔ ان کا حال یہ ہوتا ہے کہ کسی کے اوپر تنقید کرتے ہیں تو عیب جوئی اور الزام پر اتر آتے ہیں۔ ان پر کسی کا حق آتا ہو تو وہ حق کی ادائیگی کے لئے حساس نہیں ہوتے۔ کسی سے ان کا اختلاف ہو جائے تو فورا وہ اس کے معاملہ میں بے انصافی پر اتر آتے ہیں۔ وہ اپنے حریف کی حمایت کو جانتے ہیں۔ مگر وہ حق کی حمایت سے بے خبر ہوتے ہیں۔ وہ جو کچھ کہتے ہیں اسے کرتے نہیں۔ اور جو کچھ کرتے ہیں اس کو بولتے نہیں۔ ان کی غلطی کو خواہ کتنے ہی زیادہ دلائل کے ساتھ بیان کر دیا جائے مگر وہ اپنی غلطی کا اعتراف کرنے کے لئے تیار نہیں ہوتے۔ بے ضرر دین داری ان کو بہت پسند ہوتی ہے۔ مگر جس دین سے ان کے مفاد پر زد پڑتی ہو اس دین سے انھیں دل چسپی نہیں ہوتی۔ ان تمام کمزوریوں کے باوجود وہ اپنے آپ کو اسلام کا چمپیئن سمجھتے ہیں۔ وہ ایسے کام کا کریڈٹ لینے کے لئے بے تاب رہتے ہیں جس کو انھوں نے انجام نہیں دیا۔ اسلام کو داخلی طور پر اپنانے کی انھیں زیادہ فکر نہیں ہوتی۔ مگر خارجی دنیا میں اسلام کا نمائندہ بنا انھیں بہت مرغوب ہوتا ہے۔
القرطبی نے سورہ حدید کی مذکورہ آیت کے تحت لکھا ہے کہ فضیل بن عباس ایک غلط کام کی طرف مائل ہو گئے۔ اس وقت کسی نے یہ آیت پڑھ دی : الم یأن للذین آمنوا ان تخشع قلوبهم لذکر الله (الحدید (۱۶) وہ فوراً اس کام سے رک گئے اور کہا کہ بلی و الله قد آن (ہاں اے اللہ ، اس کا وقت آگیا ) جلد ا ، صفحہ ۲۵۱ یہی مومن کا مزاج ہے۔ مومن پر کبھی غفلت طاری ہوتی ہے اور وہ غلطی کی طرف مائل ہو جاتا ہے. مگر اس کا احساس اس قدر زندہ ہوتا ہے کہ جب اس کو توجہ دلائی جاتی ہے تو وہ فورا پلٹ آتا ہے۔ مومن غلطی سے توبہ کرنے والا ہوتا ہے نہ کہ غلطی میں پڑا رہنے والا۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 1996 All issues