وقت کا استعمال
الرسالہ، اپریل ۱۹۹۶، صفحہ ۲۲
وقت کا استعمال
پیغمبر اسلام نے فرمایا کہ کشادگی کا انتظار کرنا افضل عبادت ہے (افضل العبادة انتظار الفرج)، یہ ایک حکیمانہ بات ہے جو خدا کے پیغمبر نے کہی۔ وسیع تر مفہوم کے اعتبار سے اس کا مطلب یہ ہے کہ زندگی کے الجھے ہوئے معاملات میں اکثر کسی مسئلہ کا سادہ حل یہ ہوتا ہے کہ اس کو انتظار کے خانہ میں ڈال دیا جائے ۔
خدا نے اس دنیا کو اس طرح بنایا ہے کہ یہاں سارے اسباب ہمیشہ اصلاح اور تعمیر کے لئے کام کرتے رہتے ہیں۔ مثلاً اگر آپ راستہ میں کوئی گندگی ڈال دیں تو فوراً لاکھوں کی تعداد میں بیکٹیریا وہاں جمع ہو جاتے ہیں تاکہ اس کو تحلیل (decompose) کرکے اس کو مفید گیس میں تبدیل کر سکیں ۔ یہی فطرت کے پورے نظام کا حال ہے، اس لئے انتظار کی پالیسی اس دنیا میں کوئی بے عملی کی پالیسی نہیں۔ وہ عین عمل کی پالیسی ہے کیوں کہ انسان کا انتظار کرنا گویا فطرت کو یہ موقع دینا ہے کہ وہ حرکت میں آکر اس کے مسئلہ کو زیادہ بہتر طور پر حل کر دے۔ اس بات کو شاعر نے ان الفاظ میں نظم کیا ہے:
رات دن گردش میں ہیں سات آسماں ہو رہے گا کچھ نہ کچھ گھبرائیں کیا ایک بار میں ایک بڑے شہر میں گیا۔ وہاں میری ملاقات ایک تاجر سے ہوئی ۔ وہ سخت پریشان تھے، حتیٰ کہ ان کا بلڈ پریشر بہت زیادہ بڑھ گیا تھا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ انہوں نے ایک تجارتی سامان تیار کیا، مگر جب وہ اس کو مارکیٹ میں لائے تو انہیں بروقت خریدار نہ مل سکے ۔ ان کا سامان گودام میں ڈھیر ہو کر رہ گیا۔ انہوں نے کہا کہ مجھے کوئی دعا یا عمل بتائیے جس سے میں اس تجارتی بحران سے نکل سکوں۔
میں نے انہیں کوئی جواب نہیں دیا۔ اس کے بجائے کاغذ کے ایک ٹکڑے پر ایک نصیحت لکھی اور اس کاغذ کو ایک لفافہ میں بند کر کے انہیں دے دیا، میں نے کہا کہ اس لفافہ کو آپ دس دن کے بعد کھولئے گا ۔ اس لفافہ کے اندر جو کاغذ بند تھا اس پر میں نے مذکورہ حدیث کی روشنی میں ایک مختصر جملہ ان الفاظ میں لکھا تھا : اپنے معاملہ کو انتظار کے خانہ میں ڈال دیجئے ۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 1996 All issues