Al-Risala · April 1996 · page 23

گیا وقت پھر ہاتھ آتا نہیں

الرسالہ، اپریل ۱۹۹۶، صفحہ ۲۳

ڈیڑھ سال کے بعد مذکورہ تاجر کی طرف سے ایک خط میرے پاس آیا۔ اس میں انھوں نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے لکھا تھا کہ آپ کے مشورہ کے مطابق میں نے انتظار کی پالیسی اختیار کی۔ اس کا نتیجہ نہایت شاندار نکلا۔ اللہ کے فضل سے میرا سارا مال نفع کے ساتھ فروخت ہو گیا۔ میرا پھنسا ہوا روپیہ خالی ہو گیا ہے اور اب میں ایک نیا کاروبار کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہوں۔ ایک مغربی مفکر کا قول ہے کہ اخلاقی عمل کا عظیم قانون خدا کے بعد یہ ہے کہ وقت کا احترام کیا جائے:

The great rule of moral conduct, is next to God, to respect time. خدا کا حق انسان پر یہ ہے کہ وہ خدا کی پرستش کرے۔ خدا سب سے بڑا ہے۔ وہ انسان کا خالق اور مالک ہے۔ وہی سب کچھ دینے والا ہے۔ اس لئے وہی اس کا حقدار ہے کہ سب سے زیادہ اس کی تعظیم کی جائے ۔ اسی کا نام پرستش یا عبادت ہے۔

وقت موجودہ دنیا میں انسان کا سب سے بڑا سرمایہ ہے۔ ہم جو کچھ کرتے ہیں سب کا سب وقت کے دائرہ میں کرتے ہیں۔ جہاں وقت ختم ہو جائے وہاں انسان کا عمل بھی ختم ہو جاتا ہے۔ اس لئے انسان کو سب سے زیادہ وقت کا پاس و لحاظ کرنا چاہئے۔ وقت کو ضائع کرنے کا مطلب یہ ہے کہ انسان کے پاس جو سب سے بڑی دولت تھی اس کو اس نے ضائع کر دیا۔ وقت کو اگر آپ استعمال نہ کریں تو وہ آپ کے پاس ٹھہرا نہیں رہے گا بلکہ چلا جائے گا۔ اور پھر کبھی لوٹ کر آپ کے پاس نہیں آئے گا۔ وقت کا جو لمحہ کھویا گیا وہ ابدی طور پر کھویا گیا۔ اس کو شاعر نے سادہ طور پر ان لفظوں میں بیان کیا ہے:

گیا وقت پھر ہاتھ آتا نہیں

شیکسپیر جو مشہور انگریزی ادیب اور شاعر ہے، اس کا ایک قول یہ ہے کہ میں نے وقت کو برباد کیا تھا اب وقت مجھے کو برباد کر رہا ہے :

I wasted time and now doth time waste me.

اس کا مطلب یہ ہے کہ جو وقت مجھے ملا تھا وہ میرے لئے عمل کا یا ترقی کی طرف بڑھنے کا ایک لمحہ تھا، جب میں نے اس ملے ہوئے وقت کو استعمال نہیں کیا تو اس کے بعد یہ ہوا کہ میں ترقی کی طرف اپنا

‹ Previous page Next page › Contents of April 1996 All issues

Printed page