Al-Risala · April 1996 · page 32

The Qur'an opens our spiritual eyes.

الرسالہ، اپریل ۱۹۹۶، صفحہ ۳۲

سے اس کا کوئی تعلق نہیں:

Mind your own business. Its nothing to do with you. ماں باپ اس طرح کے جواب سنتے ہیں اور برداشت کرتے ہیں۔ کیوں کہ اگر وہ بچہ کے ساتھ سختی کریں تو بچہ کے ایک ٹیلی فون پر پولیس آئے گی اور ماں باپ کو پکڑ لے جائے گی۔ ۱۹ اگست کی صبح کو ناشتہ سے فراغت کے بعد ہم لوگ شہر دیکھنے کے لئے نکلے۔ سڑک پر آئے تو پہلا سنٹر یہ دکھائی دیا کہ ادھیڑ عمر کا ایک آدمی ایک بچھیڑیا نما کتے کو اپنے ساتھ لئے ہوئے فٹ پاتھ پر چل رہا ہے۔ مغربی ملکوں میں کتا زندگی کا جزو بن گیا ہے۔ میں نے سوچا کہ یہ آدمی جس طرح ایک بھیڑیا نما کتے کو لے کر بے خوف چلا جا رہا ہے۔ کیا اسی طرح وہ کسی بھیڑیے کو لے کر بھی چل سکتا ہے۔ دل نے کہا کہ نہیں۔ اس کی وجہ دونوں کی فطرت کا فرق ہے۔ کتے کو خدا نے اپنے مالک کے لئے وفادار بنایا ہے جب کہ بھیڑیا صرف ایک خونخوار جانور ہے۔ وہ ایک عام انسان کے لئے خوں خوار ہے اور مالک کے لئے بھی غیر وفادار۔ اس دنیا میں بھیڑیا بھی ایک قابل پیشین گوئی کردار کا حامل ہے اور کتا بھی قابل پیشین گوئی کردار کا حامل۔

المركز الاسلامی کے نام سے یہاں ایک منظر ہے جس کو عربوں نے قائم کیا ہے۔ ۱۹ اگست کو اسے دیکھا۔ یہاں ایک چھوٹی سی خوبصورت مسجد ہے۔ ۱۹ اگست کو یہاں دو رکعت نماز ادا کی اور حسب توفیق دعائیں کیں۔ یہ مسجد ایک ہشت پہل ہال میں بنائی گئی ہے۔ جمعہ کے نمبر کی جگہ لکڑی کی ایک چھوٹی سی کرسی رکھی ہوئی ہے۔ پوری مسجد میں قالین کی صفیں بھی ہوئی تھیں۔ اس مسجد کا نام مسجد الرحمن ہے۔ پورے اٹلی میں غالباً صرف دو مسجد ہے۔ ایک میلان کی موجودہ مسجد اور دوسرے روم کی مسجد جو حال میں تعمیر ہوئی ہے۔ اٹلی میں یہ سارا کام عربوں کے تعاون سے ہو رہا ہے۔

اس مسجد سے متصل ایک مرکز ہے۔ یہاں مسلم مرد اور مسلم عورتیں کثرت سے موجود تھیں معلوم ہوا کہ آج اطالوی مسلمانوں کا اجتماع ہے۔ اس قسم کا یہ پہلا اجتماع تھا۔ مرکز کے ڈائرکٹر السید عبدالفتاح

‹ Previous page Next page › Contents of April 1996 All issues

Printed page