Al-Risala · April 1996 · page 33

The Qur'an opens our spiritual eyes.

الرسالہ، اپریل ۱۹۹۶، صفحہ ۳۳

مجھ کو جانتے تھے اور میری عربی کتابیں پڑھے ہوئے تھے۔ وہ اتفاق سے وہاں موجود تھے۔ انھوں نے دوپہر کے اجتماعی کھانے میں شریک کیا۔ اور اصرار کیا کہ اجتماع سے خطاب کروں۔ وقت بہت کم تھا کیوں کہ مجھ کو کانفرنس کے افتتاحی اجلاس میں بیٹھنا تھا۔ میں نے اسی وقت بیٹھ کر ایک فل اسکیپ کاغذ پر ایک عربی تقریر لکھی اس کے بعد اسٹیج پر آیا۔ ابتداً کچھ کلمات انگریزی میں کہے اس کے بعد عربی میں لکھی ہوئی تقریر پیش کی۔ ایک عرب عالم نے فوری طور پر اس کا اطالوی زبان میں ترجمہ کیا۔

ایک ایشیائی نے اہل مغرب کے تعصب کی شکایت کرتے ہوئے کہا کہ یہاں کا میڈیا ویسٹرن فریم ورک کے سوا کسی اور ڈھنگ پر کسی بات کو بتانا جانتا ہی نہیں : There is a lot of reluctance in the media to explain anything outside the western framework. میں نے کہا کہ ایشیائی ملکوں میں کونسا ملک ہے جہاں یہ مزاج موجود نہیں ہے، ہندوستان والے ہندوستانی نقطہ نظر سے ہر چیز کو بیان کرتے ہیں۔ پاکستان والے پاکستانی نقطہ نظر سے ہر معاملے کی تشریح کرتے ہیں۔ یہی تمام قوموں کا حال ہے۔ پھر اس کے لئے آپ اہل مغرب کی شکایت کیوں کر رہے ہیں۔

میرے ٹکٹ کا جور یزرویشن تھا ، اس میں اٹلی، انگلینڈ اور مالٹا شامل تھے۔ مگر درمیان سفر میں بعض وجوہ سے میلان میں مالٹا کو حذف کرکے مجھ کو نیا ٹکٹ بنوانا پڑا۔ اس طرح سفر مزید جاری نہ رہ سکا۔

" مالٹا " کا لفظ ہندوستان کی آزادی کی جدوجہد میں ایک تاریخی علامت کی حیثیت رکھتا ہے۔ ہندوستان میں انگریزوں کے خلاف آزادی کی باقاعدہ جدوجہد کو اگر سلطان ٹیپو سے مانا جائے تو وہ ۱۷۹۹ میں شروع ہوئی جبکہ سلطان انگریزی فوج سے لڑتے ہوئے مارے گئے۔ اس کے بعد مسلسل یہ جنگ مسلح ٹکر او کی صورت میں جاری رہی۔ مولانا محمود حسن دیوبندی اس ناکام شمشیری جنگ کی آخری کڑی تھے۔ اسی کے جرم میں ان کو تقریباً ساڑھے تین سال تک مالٹا کے قلعہ میں قید کی زندگی گزارنا پڑا۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 1996 All issues

Printed page