Al-Risala · April 1996 · page 34

The Qur'an opens our spiritual eyes.

الرسالہ، اپریل ۱۹۹۶، صفحہ ۳۴

مالٹا سے رہا ہو کر وہ ۸ جون ۱۹۲۰ کو دوبارہ بمبئی کے ساحل پر اترے۔ اس وقت مہاتما گاندھی ہندوستان کی سیاست میں داخل ہو چکے تھے۔ انھوں نے جدوجہد آزادی کے طریق کار میں انقلابی تبدیلی پیدا کرنے اس کو تشدد کے بجائے عدم تشدد کے اصول پر قائم کر دیا تھا۔ اس وقت کے مسلم رہنماؤں نے اس تبدیلی کو قبول کر لیا۔ مولانا محمود حسن دیوبندی مولانا ابو الکلام آزاد، مولانا حسین احمد مدنی، مولانا محمد علی جوہر اور دوسرے تمام لوگوں نے مہاتما گاندھی کی قیادت کو تسلیم کر لیا۔ اس طرح سوا سو سال کی ناکام قربانیوں کے بعد آزادی کی تحریک پر تشدد اصول کو ترک کر کے عدم تشدد کے اصول پر چلنے لگی اور آخر کار ۱۹۴۷ء میں کامیابی کے مرحلہ تک پہنچی۔

اسی قسم کا معاملہ آزادی کے بعد بھی مسلمانوں کے ساتھ پیش آیا ہے۔ ہندوستانی مسلمانوں کو یہ احساس ہوا کہ اس ملک میں وہ اکثریتی فرقہ کے تعصب اور زیادتی کا شکار ہو رہے ہیں۔ مسلم لیڈروں نے دوبارہ لفظی جنگ کی صورت میں ایک جوابی تحریک شروع کر دی۔ یہ مطالبہ، احتجاج، عوامی مظاہرہ کے اصول پر چلائی گئی۔ یہ پر شور جنگ پچاس سالہ قربانیوں کے باوجود مکمل طور پر ناکام ہو گئی ہے۔ اس سے مسلمانوں کے نقصان میں اضافہ تو ہوا مگر اس سے مسلمانوں کو کچھ حاصل ہو سکا۔

اب دوبارہ مسلم سیاست میں ایک تبدیلی کی ضرورت ہے۔ وہ یہ کہ مسلمان اپنی جدوجہد کو اصول احتجاج کے بجائے اصول تعمیر پر قائم کریں۔ اب وہ خارجی مطالبہ کے بجائے داخلی تعمیر پر محنت کریں۔ وہ مبنی بر غیر سیاست کو چھوڑ کر مبنی بر خویش سیاست کو اختیار کر لیں۔ لیبیا کے ایک صاحب کو میں نے گری لال جین کا یہ اقتباس دکھایا : اب ہمارے لئے کیا راستہ ہے۔ کیا ہم اپنی پرانی دنیا کی طرف واپس چلے جائیں، مانوس فراریت کی دنیا کی طرف یا ہم کٹر پن سے ٹکراؤ کی طرف بڑھیں۔ یہ پہلا انتخاب نہیں جس کی ایک شخص تمنا کر سکتا ہے۔ اور تیسرا انتخاب افق پر موجود نہیں۔ آئیے کہ مایوسی کے عالم میں ہم یہ خیال کریں کہ آئندہ کبھی تنہائی کی ہوا نہ نکل جائے اور لیبیا دنیا میں ایک نئے آغاز کا نقیب بن جائے :

‹ Previous page Next page › Contents of April 1996 All issues

Printed page