Al-Risala · April 1996 · page 35

The Qur'an opens our spiritual eyes.

الرسالہ، اپریل ۱۹۹۶، صفحہ ۳۵

Where then do we go from here? Back into our old, familiar escapism, or forward into confrontation with obscurantism. It is not a choice I for one would wish to make. And a third option is not on the horizon unless in our desperation we regard the deflation of Col Gaddafy in far away Libya as a harbinger of a new beginning in the world. Girilal Jain, The Times of India, May 7, 1992, p. 8. ایک مجلس میں میں نے یہ حدیث سنائی کہ من صمت نجا (جو آدمی چپ رہا اس نے نجات پائی)، لوگ بولنے کو کام سمجھتے ہیں۔ حالاں کہ چپ رہنا بھی ایک کام ہے۔ کسی کا قول ہے کہ جب میں چپ ہوتا ہوں تو میں سوچ رہا ہوتا ہوں اور جب میں بولتا ہوں تو میں نہیں سوچتا :

While I am quiet I think, while I talk, I do not. سوچنا گویا بولنے کی تمہید ہے۔ سوچنا گویا بولنے کی تیاری ہے۔ اگر آپ نے سوچنے کا مرحلہ طے کیا ہے تو آپ نے اپنے اندر یہ قابلیت پیدا کی ہے کہ آپ بولیں۔ سوچنا آپ کو بتاتا ہے کہ آپ کیا بولیں اور کس طرح بولیں۔ اگر آپ نہ سوچیں تو آپ یہ بھی نہیں جانیں گے کہ مسئلہ کیا ہے۔ اور جو آدمی مسئلہ کی حقیقت ہی سے واقف نہ ہو وہ بولنے کا اہل کیونکر ہو سکتا ہے۔

بولنا آسان ہے مگر سوچنا بے حد مشکل ہے۔ بولنا جلد بازی کا عمل ہے اور سوچنا صبر کا عمل۔ ایک غیر سنجیدہ آدمی بھی بولنے کا کام کر سکتا ہے۔ مگر سوچنے کا کام صرف وہ لوگ کرتے ہیں جو سنجیدہ ہوں ۔

رومن کیتھولک چرچ میں اب تک یہ قاعدہ تھا کہ پادری کے لئے مجرد رہنا ضروری تھا۔ مگر ایسے اسکینڈل کی تعداد بڑھنے لگی جب کہ پادریوں نے عورتوں سے ناجائز جنسی تعلقات قائم کر لئے۔ چرچ کے ذمہ دار اس کو روکنے میں ناکام ثابت ہوئے۔ چنانچہ جولائی 1993 میں ویٹیکن کے پوپ جان پال دوم نے ایک بیان جاری کیا ہے جس میں پادریوں کو نکاح کی اجازت دیدی گئی ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 1996 All issues

Printed page