The Qur'an opens our spiritual eyes.
الرسالہ، اپریل ۱۹۹۶، صفحہ ۳۶
روم میں میں نے ایک پادری سے یہ بات کہی۔ اس نے جواب دیا کہ ہاں، مگر پوپ نے یہ بھی کہا ہے کہ غیر شادی شدہ رہ کر ایک پادری زیادہ اچھی طرح اپنی خدمات انجام دے سکتا ہے۔ پادری کی ذمہ داری مجرد رہ کر زیادہ بہتر طور پر ادا کی جاسکتی ہے: But Pope has also added that being single is more suited to carrying out a priest's duties. The needs of the Priesthood are better served by celibacy. اس سفر میں کئی ایسے تجربے ہوئے جن کے درمیان محسوس ہوا کہ یورپ میں عربوں کے ساتھ آج وہی آئی پی جیسا برتاؤ کیا جاتا ہے۔ اس پر مجھے ایک قصہ یاد آیا۔ مولانا شبلی نعمانی نے ۱۸۹۲ میں ترکی وغیرہ کا سفر کیا۔ اس سفر کی مفصل رو داد ”سفرنامہ روم و مصر و شام کے نام سے شائع ہو چکی ہے۔ بحری سفر کے ذریعہ وہ ۲۳ مئی ۱۸۹۲ کو قسطنطنیہ پہنچے اور وہاں تین مہینہ قیام کیا۔ ایک روز قسطنطنیہ کے مکتب حربیہ کے سکریٹری ذکی پاشا سے ملنے گئے۔ موصوف پہلے سے مولانا شبلی سے واقف نہ تھے۔ چنانچہ بوقت ملاقات ایک عجیب واقعہ گزرا جو مولانا شبلی کے الفاظ میں یہ تھا: اتفاق سے ذکی پاشا باہر جا چکے تھے۔ آدمی نے کہا کہ ذرا ٹھہر جائیے، شاید جلد آجائیں۔ اسی اثنا میں وہ آ پہنچے۔ گاڑی سے اترنے کے ساتھ انہوں نے ہماری طرف رخ کیا۔ شیخ علی طیبان اور میں دونوں عربی لباس میں تھے۔ اگرچہ میرے سر پر ریشمی عمامہ اور کمر میں سنہری پیٹی تھی لیکن قفطان اور عبا کی وجہ سے مجموعی صورت سے میں عرب معلوم ہوتا تھا۔ ذکی پاشا کو اس وقت نہایت جلدی تھی۔ سلام علیک کے ساتھ ہی جیب میں ہاتھ ڈالا اور کچھ مجیدیاں (ترکی سکہ) نکالیں۔ پہلے تو مجھے سخت تعجب ہوا۔ پھر خیال آیا کہ نعوذ باللہ، انہوں نے ہم کو عام عربوں کی طرح گدا گر سمجھا۔ اس خیال کے ساتھ مجھ کو نہایت رنج اور رنج کے ساتھ غصہ آیا۔ میں نے چلا کر کہا: ماجئنا لهذا ، لسنا من الفقراء (ہم اس لئے نہیں آئے، ہم محتاج نہیں ہیں)، پاشا موصوف اگرچہ عربی نہیں سمجھتے تھے۔ لیکن چہرے کی ہیئت اور لہجہ کلام سے سمجھے کہ یہ امر اس کو ناگوار گزرا۔ شیخ علی طیبان کی طرف متوجہ ہوئے کہ یہ غیظ میں کیوں ہیں۔ شیخ علی طیبان ٹوٹی پھوٹی ترکی بول لیتے تھے۔ میرے آنے کی غرض بیان کی۔ پاشا موصوف نہایت شرمندہ ہوئے۔ (صفحه ۴۴ - ۴۵)
‹ Previous page Next page › Contents of April 1996 All issues