Al-Risala · April 1996 · page 37

The Qur'an opens our spiritual eyes.

الرسالہ، اپریل ۱۹۹۶، صفحہ ۳۷

اس واقعہ سے اندازہ ہوتا ہے کہ سو سال پہلے عربوں کی عام تصویر کیا تھی۔ غالباً ۱۹۴۱ کی بات ہے، اعظم گڑھ میں خود میرے یہاں اسی قسم کے ایک عرب مسافر آئے تھے اور ان کو میں نے ایک رات اور ایک دن اپنے مکان پر ٹھہرایا تھا۔ اور ان کی خدمت کی تھی۔ صبح کو جب میں ان کے کمرہ میں گیا اور پوچھا کہ رات کیسی گزری تو انھوں نے کہا: ما کان النوم معنا باللیل۔ معلوم ہوا کہ مچھر کی وجہ سے وہ رات کو ٹھیک سے نہ سو سکے۔ مگر آج عربوں کی تصویر اس سے سراسر مختلف ہے۔ "عرب شیخ" کا لفظ اب دولت کا نشان بن چکا ہے اور اسی کے ساتھ عزت و احترام کا بھی۔

۴ اکتوبر ۱۹۹۳ کو واپسی ہوئی۔ صبح کو فجر سے کچھ پہلے برمنگھم سے لندن کے لئے روانگی ہوئی۔ ہم کو لندن سے دہلی کے لئے جہاز لینا تھا۔ برمنگھم سے جناب شمشاد خاں صاحب کے ساتھ بذریعہ روڈ سفر کیا۔ راستے میں ایک جگہ لکھا ہوا تھا: آگے فلن سڑک پر ایکسیڈنٹ ہو گیا ہے۔ تا حد نظر کاریں کھڑی ہوئی دکھائی دیتی تھیں۔ شمشاد خاں صاحب نے فوراً اپنی گاڑی موڑی اور نئے راستہ پر سفر کرتے ہوئے ائیر پورٹ پہنچے۔

لندن ائیر پورٹ پر جناب شمشاد خاں صاحب سے رخصت ہو کر اندر داخل ہوا تو معلوم ہوا کہ ائیر انڈیا کی فلائٹ ہم گھنٹہ لیٹ ہے۔ ہم کو ائیر پورٹ پر مزید انتظار کرنا ہوگا۔ پھر مجھے ترکی کے غدر کا قصہ یاد آیا۔ وہ امپورٹڈ کار میں بیٹھ کر گھر سے دفتر کے لئے روانہ ہوئے۔ راستہ میں معلوم ہوا کہ کار میں پٹرول ختم ہو گیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ گاڑی تو ہم نے باہر سے خرید کر حاصل کر لی مگر پٹرول ڈالنا ہمارا کام تھا اور یہاں ہم فیل ہو گئے۔ یہی حال ائیر انڈیا کا ہے۔ جہاز تو ہم نے باہر سے خرید کر منگا لئے۔ مگر اس کو صحیح طور پر چلانے کے لئے ہمیں اپنا حصہ ادا کرنا تھا۔ یہاں ہم فیل ہو گئے۔

لندن ائیر پورٹ کی انتظار گاہ پر بیٹھا ہوا تھا: دیوار پر لگے ایک بورڈ پر نظر پڑی۔ برٹش ائیرویز کے چیف ایگزیکیوٹو سر جان ایگن کی دستخط سے یہ الفاظ لکھے ہوئے تھے اپنے ائیر پورٹ کی سروس پر ہم اس وقت تک مطمئن نہیں ہو سکتے جب تک آپ مطمئن نہ ہوں :۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 1996 All issues

Printed page