Al-Risala · April 1996 · page 24

Creating harmony amidst cultural conflict

الرسالہ، اپریل ۱۹۹۶، صفحہ ۲۴

خبرنامہ اسلامی مرکز ۱۰۶

سنڈے میگزین کے نمائندہ مسٹر این وی سبرا نیم نے ۲۵ نومبر ۱۹۹۵ کو صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ سوالات کا تعلق ہندوستانی مسلمانوں کی سیاست سے تھا۔ ایک سوال کے جواب میں کہا گیا کہ مسلمانوں کے لئے انڈیا میں زبردست سیاسی رول ادا کرنے کا موقع ہے۔ مگر سیاسی شعور نہ ہونے کی وجہ سے ابھی تک وہ ملک میں اپنا یہ کردار ادا نہ کر سکے۔ نیٹ ورک کلچر س ایشیا کی طرف سے بنگلور میں ۲۷ - ۳۰ نومبر ۱۹۹۵ کو ایک ورکشاپ منعقد ہوئی۔ اس کا عنوان تھا :

Creating harmony amidst cultural conflict

صدر اسلامی مرکز کے نام اس کا دعوت نامہ آیا تھا۔ اس کے لئے انھوں نے ایک ورکنگ پیپر بھی تیار کر لیا تھا۔ مگر بعض وجوہ سے سفر ممکن نہ ہو سکا۔ چنانچہ تیار شدہ پیپر کی ایک کاپی منتظمین کے پاس بھیج دی گئی۔

۲۹ نومبر ۱۹۹۵ کو گول ڈاک خانہ (نئی دہلی) شیڈولڈ کاسٹ کمیشن کا ایک آل انڈیا جلسہ ہوا۔ اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اس میں شرکت کی۔ اور انسانیت اور مساوات کے موضوع پر ایک مختصر تقریر کی۔

پانچ جنیہ کے نمائندہ مسٹر جاوید انور نے ۵ نومبر ۱۹۹۵ کو صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ سوالات کا تعلق ملک میں پھیلے ہوئے اسلامی مدارس سے تھا۔ ایک سوال کے جواب میں بتایا گیا کہ یہ مدارس ایک نہایت مفید سماجی خدمت انجام دے رہے ہیں۔ ان مدارس کے تعلیمی نظام کو جدید اصطلاح میں اقدار پر مبنی تعلیم (ویلیو بیسڈ ایجوکیشن) کہا جا سکتا ہے۔ اس طرح وہ اپنے تعلیمی نظام کے ذریعہ ملک کو اچھے شہری تیار کر کے دے رہے ہیں۔ میڈیا اسٹار (نئی دہلی) کے نمائندہ مسٹر ایم احمد کاظمی نے ۵ نومبر ۱۹۹۵ کو صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ سوالات کا تعلق زیادہ تر سے تھا کہ سیکولرزم کا مستقبل ہندوستان میں کیا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں کہا گیا کہ مشترک سماج میں سیکولرزم ہی واحد مفید اور قابل عمل نظام ہے۔ ایسے سماج میں سیکولر نظام کا قیام عقل کے مطابق بھی ہے اور اسلام کے مطابق بھی۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 1996 All issues

Printed page