Creating harmony amidst cultural conflict
الرسالہ، اپریل ۱۹۹۶
جاپان (ٹوکیو یونیورسٹی) کے ریسرچ اسکالر مسٹرر متسوہیرو کونڈو (Mitsuhiro Kondo) نے ۷ نومبر ۱۹۹۵ء کو صدر اسلامی مرکز سے تفصیلی انٹرویو لیا۔ سوالات کا تعلق زیادہ تر ہندوستانی سیاست میں مسلمانوں کے رول سے تھا۔ ایک سوال کے جواب میں انھیں بتایا گیا کہ ہندوستانی مسلمان تقریباً ایک سو پارلیمنڑی حلقہ میں براہ راست یا بالواسطہ طور پر فیصلہ کن حیثیت رکھتے ہیں۔ اگر ان میں صحت مند سیاسی شعور ہوا تو وہ ملک کے سیاسی نظام کی تشکیل میں نہایت مثبت رول ادا کر سکتے ہیں۔
ہندی روزنامہ دینک جاگرن کے نمائندہ مسٹ رام پرکاش ترپاٹھی نے ۸ دسمبر ۱۹۹۵ء کو صدر اسلامی مرکز کا تفصیلی انٹرویو لیا۔ اس کا موضوع ”نئے حالات میں ہندوستان کا بدلتا ہوا کلچر“ تھا۔ ایک سوال کے جواب میں کہا گیا کہ تمام اصلاحات کے لئے صحیح نقطہ آغاز صرف ایک ہے، اور وہ تعلیم ہے۔ جب تک ملک میں تعلیم نہیں بڑھے گی کوئی بھی مسئلہ حل ہونے والا نہیں یونین آف کیتھولک ایشین نیوز کے نمائندہ مسٹر اکرا || آینٹوکرا (Akkn Antoakra) نے ۱۲ دسمبر ۱۹۹۵ء کو ٹیلیفون پر صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ انٹرویو کا تعلق سپریم کورٹ آف انڈیا کے تازہ فیصلے سے تھا۔ جس میں الیکشن میں ہند توا اور ہند وازم کے استعمال کو جائز قرار دیا گیا ہے۔ جواب کا خلاصہ یہ تھا کہ یہ فیصلہ خالص تکنیکل گراؤنڈ پر دیا گیا ہے، وہ قانون اور دستور کی اسپرٹ کے مطابق نہیں۔
یکساں سول کوڈ (مطبوعه الرساله ستمبر ۱۹۹۵)، ہر حلقہ میں غیر معمولی طور پر پسند کیا گیا۔ بہت سے اخبار اور رسالے نے اس کو شائع کیا۔ پمفلٹ کی صورت میں اردو، انگریزی اور دوسری زبانوں میں شائع ہوا۔ کئی اخباروں نے اس موضوع پر انٹرویو شائع کئے ۔ اس کا مدلل انداز خدا کے فضل سے اس حد تک مؤثر ثابت ہو کہ تعلیم یافتہ طبقہ کے جو لوگ پہلے اس کی پر جوش حمایت کر رہے تھے، حتی کہ اس کو الیکشن کا ایشو بنانا چاہتے تھے، وہ سب سرد پڑ گئے ۔ اس سلسلہ میں کثرت سے لوگوں کے خطوط موصول ہوئے ہیں۔ اگلے صفحہ پر دو خط نقل کیا جا رہا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 1996 All issues