زاویۂ نظر کا فرق
الرسالہ، جون ۱۹۹۶، صفحہ ۶۱
زاویۂ نظر کا فرق
سورہ البقرہ (رکوع ۳۲) میں بنی اسرائیل کی قدیم تاریخ کا ایک واقعہ بیان کیا گیا ہے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی وفات کے تقریباً تین سو سال بعد، اور حضرت داؤد سے کچھ پہلے، ان کے ایک بنی شموئیل(۱۰۲۰۔ ۱۱۰۰ق (۱۰۲۰-۱۱۰۰ ق م) تھے جو شام کے ایک شہر رامہ میں رہتے تھے۔ بنی اسرائیل اس وقت دشمنوں سے گھر ے ہوئے تھے۔ انھوں نے اپنے پیغمبر سے کہا کہ ہمارے لیے ایک ملک (بادشاہ) مقرر کر دیجئے' شموئیل جو اس وقت بوڑھے ہو چکے تھے، انھوں نے کہا کہ اللہ نے طالوت (Saul) کو تمہارے لیے بادشاہ مقرر کیا ہے (البقرہ ۲۴۷)
اس کے بعد قرآن میں ہے کہ نبی اسرائیل نے کہا کہ اس کو ہمارے اوپر بادشاہی کیسے مل سکتی ہے۔ حالاں کہ اس کے مقابلہ میں ہم بادشاہی کے زیادہ حق دار ہیں، اور اس کو زیادہ دولت بھی حاصل نہیں۔ نبی نے کہا کہ اللہ نے تمہارے مقابلہ میں اس کو چنا ہے اور علم اور جسم میں اس کو زیادتی دی ہے۔ اور اللہ اپنی سلطنت جس کو چاہتا ہے دیتا ہے، اور اللہ بڑی وسعت والا، جاننے والا ہے (البقرہ ۲۴۷) شموئیل نبی نے جس آدمی کو بنی اسرائیل کے اوپر سردار مقرر کیا، اس کا ایک پہلو یہ تھا کہ وہ اونچے خاندان کا نہیں تھا اور اس کے پاس زیادہ دولت بھی نہیں تھی، بنی اسرائیل نے جب اس کو اس اعتبار سے دیکھا تو وہ ان کے درمیان ایک کم تر انسان نظر آیا۔ ان کی سمجھ میں نہیں آیا کہ ایسا ایک کم تر انسان ہمارے اوپر سردار کس طرح بن سکتا ہے۔ مگر اس کی شخصیت کا دوسرا پہلو یہ تھا کہ وہ جسمانی اعتبار سے ایک طاقت ور انسان تھا اور اسی کے ساتھ ذہین اور مدبر تھا۔ اس دوسرے پہلو سے دیکھنے میں وہ سب سے زیادہ لائق تھا۔ کیوں کہ سرداری کے لیے اسی قسم کی صلاحیت والے انسان کی ضرورت ہوتی ہے۔
یہ زاویۂ نظر کے فرق کا معاملہ ہے۔ کسی چیز کو آپ ایک رخ سے دیکھئے تو وہ درست نظر آئے گی۔ اسی چیز کو دوسرے رخ سے دیکھیں تو وہ بالکل غلط معلوم ہونے لگے گی۔ یہی اس دنیا میں انسان کا امتحان ہے۔ یہاں صحیح زاویۂ نظرو الا آدمی ہدایت پائے گا، اور غلط زاویۂ نظروالا آدمی بے راہ ہو کر رہ جائے گا۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 1996 All issues